کالمز

سات بہنیں اور دش پوڑھی

تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔عبداللہ طارق سہیل

اس خبر سے بھارت میں کھلبلی سی مچ گئی ہے کہ چین بنگلہ دیش کے شمالی شہر لال مانر ھاٹ میں ایک فوجی ایئر بیس بنا رہا ہے۔ یہ شہر جیسور کے اس حلقہ نما علاقے میں ہے جو بھارت کے اندر گھسا ہوا ہے اور جس کے پار صرف چند میل چوڑی بھارتی علاقے کی ایک پٹّی ہے جس نے مین لینڈ بھارت کو شمال مشرق کی سات ریاستوں سے جوڑ رکھا ہے۔ اس پٹی سے ایک بڑی ریلوے لائن اور ایک سڑک گزرتی ہے۔ کسی بھی وجہ سے یہ راستہ رک جائے تو بھارت کا شمال مشرق سے رابطہ کٹ جائے۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر یونس نے پچھلے مہینے چین کا دورہ کیا اور اس مقام پر ایئر بیس بنانے کی تجویز دی۔ اطلاعات کے مطابق آنے والے اکتوبر میں اس پر کام شروع ہو جائے گا اور اطلاعات یہ بھی ہیں کہ پاکستان کو بھی شاید شریک کر لیا جائے۔ چنانچہ یہ کھلبلی سی مچ گئی ہے۔ یعنی اس بات پر کہ چین اس تنگ زمینی پٹی کے سر پر آ کر بیٹھ جائے گا۔ اس پٹی کو اتنا زیادہ تنگ ہونے کی وجہ سے NECK HENS مرغی کی گردن کا نام بھی دیا گیا ہے۔
اس خبر کے پس منظر میں دو مزے دار خبریں ہیں۔ ایک خبر بھارتی جنتا پارٹی کے بیان کی صورت میں آئی جس میں تجویز دی گئی کہ مرغی کی گردن بہت پتلی ہے، اسے چوڑا کرنے کیلئے جیسور کے سارے حلقے ENCLAVE پر قبضہ کر لیا جائے جس سے سات ریاستوں کو جانے والا راستہ بہت چوڑا ہو جائے گا، مستقبل میں فکر رہے گا نہ فاقہ، بنگلہ دیش کو بھی اس کی اوقات میں لے آئیں گے۔ دوسری خبر بنگلہ دیش کے سابق آرمی چیف کا بیان تھا، یہ کہ بنگلہ دیش آگے بڑھ کر ان ساتوں ریاستوں پر قبضہ کر لے۔ یہ تجویز دراصل جواب آں غزل تھی اور بھارت کو چڑانے کیلئے دی گئی تھی ورنہ بنگلہ دیش کی ڈیڑھ لاکھ فوج اور کل 36 طیاروں کی ایئر فورس ایسا کہاں کر سکتی ہے۔ بہرحال بھارت خوب چڑا، خوب کہ بنگلہ دیش کی یہ مجال، ہم ایسی ’’سپرپاور‘‘ سے وہ ایسی بات کرے۔ یہ تو بعد کی بات ہے کہ مئی کا مہینہ آ گیا، جنگ چہار روزہ نے سپرپاور میں سے سپر کا لفظ اڑا دیا ہے۔
_______
ان سات شمال مشرقی ریاستوں کو سات بہنیں کہا جاتا ہے۔ ان سات بہنوں کا کچھ قصہ سن لیجئے کیونکہ ضروری باتیں بالعموم ہم نہیں جانتے۔ اس کے بعد آپ کو ’’مادام نریندرن مودائن‘‘ کی کہانی بھی بتانی ہے۔
ان ساتوں میں سے آسام سب سے بڑا ہے۔ اسے ایک طرف رکھ لیجئے کہ ڈیموگرافی کی تبدیلی نے اسے باقی چھ سے الگ کر دیا ہے۔ ڈیموگرافی کی بدولت یہ اب بھارت کا حصہ ہے۔ ماضی میں بھی کئی بار ہندو راجہ اور مسلمان سلطنتوں میں بھی یہ بھارت یا ہندوستان کا حصہ رہا ہے۔ ڈیموگرافی کی وجہ سے یہاں اب علیحدگی کی تحریک ختم ہو گئی ہے اور بنگالی مسلمانوں کو نکالو کی مہم شروع ہو گئی ہے۔
ڈیموگرافی کا معاملہ یہ ہے کہ قدیم مقامی آسامی غالب اکثریت میں نہیں رہے۔ مذہباً دیکھیں تو 61 فیصد آبادی ہندو، 35 فیصد مسلمان ہیں۔ تمام بھارتی صوبوں (ریاستوں) میں سے مسلمانوں کی آبادی کا سب سے زیادہ تناسب آسام میں ہے اور بی جے پی کہتی ہے، بنگال (بنگلہ دیش اور مغربی بنگال) سے مسلمان مسلسل یہاں آ رہے ہیں، ایک دن یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو جائے گی (اندیشہ ہائے بے بنیاد)۔
چنانچہ علیحدگی کی تحریک قصہ پارینہ بن گئی۔ بوڑو قبائل مسلمانوں کے بالخصوص دشمن ہیں، گاہے بگاہے حملے کر کے ان کی بستیوں کو جلا کر خاکستر کر دیتے اور ان کا قتل عام کرتے ہیں۔ بی جے پی اس مہم میں بوڑو قبائل کے ساتھ ہے۔ آسامی نسل کل 48 فیصد رہ گئی، بیشتر ہندو ہیں اور بوڑو محض 5 فیصد ہیں۔ صوبے کی آبادی سوا تین کروڑ ہے یعنی آبادی کے لحاظ سے یہ صف سوئم کے بڑے صوبوں میں سے ایک ہے۔
باقی چھ ریاستوں میں سے چار عیسائی ہیں اور ان سب کی نسل ہندوستانی نہیں، چینی یا برمی یا مخلوط چینی برمی ہے۔ ان کی تفصیل یہ ہے۔ منی پور (آبادی 35 لاکھ، ہندو 40 ، عیسائی 45 فیصد)۔ ناگالینڈ (آبادی 25 لاکھ، عیسائی 88 فیصد، میگھالے (آبادی 35 لاکھ، عیسائی 75 فیصد)۔ یہ صوبے اب بھارتی نہیں رہے لیکن ان کی آبادی اتنی کم ہے کہ بہت بڑی مزاحمت نہیں کر سکتے۔
سب سے ’’نازک‘‘ صوبہ اروناچل پردیش ہے۔ یکسر کم آباد رقبہ خاصا ہے، لگ بھگ 84 ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی محض اور محض 14 لاکھ۔ 30 فیصد عیسائی اور اتنے ہی ہندو ہیں۔
چین کا دعویٰ ہے کہ اس ریاست کا دوتہائی سے بھی زیادہ علاقہ چین کا حصہ ہے اور وہ اسے واپس لے گا۔ پہلے یہ علاقہ ’’نیفا‘‘کہلاتا تھا اور جنگ بھی ہوئی تھی۔ پاک، بھارت جنگ چہار روزہ کے نتائج چین نے دیکھ لئے، اب وہ پورے اعتماد کے ساتھ یہ ریاست واپس لینے کیلئے بڑی جنگ کر سکتا ہے۔ کیا پتہ اگلے سال ہی۔
آخری ننھّی منی ریاست میزورام ہے، 12 لاکھ کی آبادی میں 88 فیصد ہندو ہیں۔
_______
مادام نریندرائن مودائن کا اصل نام تو کچھ اور ہے، شاید باردانہ خس و خاشاک قسم کا لیکن اپنے شہرہ آفاق بیانات کے باعث عوام الناس نے انہیں مادام نریندرائن مودائن کا اعزازی خطاب دیا ہے۔ ایک نعرہ وہ اکثر لگاتی ہیں اور سربازار لگاتی ہیں، بے خطر، بے خوف ڈنکے کی چوٹ پر کہ پاکستان نہیں چاہیے۔ گوروگورکھ ناتھ نہیں تو پاکستان بھی نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ گوروگورکھ ناتھ عرصہ دو سال سے کال کوٹھڑی میں ہے اور پاکستان پہلے سے بڑھ کر موجود ہے۔ پاکستان کیخلاف ان کے اندر اتنا زہر بھرا ہے کہ انہیں وش کنیا کا نام بھی دیا جا سکتا ہے لیکن اس لئے نہیں دیا جا سکتا کہ وہ عمر کے اعتبار سے کنیا نہیں ہیں، تقریباً ’’بڑھؤ‘‘ ہیں۔ ہاں، انہیں ’’وش پوڑھی‘‘ یا ’’وش پڑھیا‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
تازہ وش بھرا ویاکھیان انہوں نے یہ دیا ہے کہ ہم کنڈی کھڑکانے والے نہیں، دروازے توڑنے والے ہیں، دروازے توڑ کر ججوں کے گھر گھس جائیں گے اور ان کی ایسی کی تیسی کر دیں گے۔
جیو وش پوڑھی جی جیو، تو یہ بھی بتا دیجئے، کس تاریخ کو کس جج کے گھر دروازہ توڑ کر آپ گھسنے والی ہیں، مہورت تو نکال ہی لی ہو گی۔ ویسے آپ دروازے توڑنے والا ٹولہ ہیں، یہ بات تو آپ نے 9 مئی ہی کو بتا دی تھی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button