ایران مشکل میں……
تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبداللہ طارق سہیل
جب سے اسرائیل بنا ہے یعنی 1948 کے بعد سے، اس پر ایسی مصیبت کبھی نہیں پڑی تھی جیسی ایران کے سپر سانک میزائلوں کے حملوں سے پڑی۔ ان حملوں سے بہت سی عمارات ڈھے گئیں اور اسرائیلی لوگ گھبرا گئے، ڈر گئے اور دیوار گریہ سے سر ٹکرانے لگے حالانکہ ابھی ان کے ساتھ ہوا ہی کیا ہے۔ چند درجن لوگ بھی نہیں مرے۔ انہوں نے غزہ کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک ملبے کا ڈھیر اور اجتماعی قبروں کا قبرستان بنا ڈالا، دو لاکھ غزہ کے لوگ مارے گئے، کئی لاکھ کو زندہ درگور بنا دیا، خود دو درجن لاشوں کا بوجھ بھی نہ اٹھا سکے اور چلانے لگے۔
ایک یہودی رپورٹر عورت کو روتے ہوئے دیکھا، کلپ میں وہ کہہ رہی تھی ہمارے پاس پوری دنیا میں یہی ایک ملک ہے، اس پر بھی انہوں نے حملہ کر دیا ہے۔ یہ عورت جھوٹ کہہ رہی تھی۔ اتنا بڑا ملک امریکہ ان کے لئے وقف ہے، ساٹھ ستر لاکھ سے بھی زیادہ یہودی وہاں آباد ہیں، اتنے ہی اور وہاں جب چاہے جا سکتے ہیں اور اسرائیل ان کا ملک ہے کب، یہ تو فلسطین تھا جسے اپنے وقت کے سب سے بڑے شیطان برطانیہ نے فلسطینیوں سے چھین کر ان کے حوالے کر دیا۔
امریکہ ہی نہیں، ان کے پاس بہت سے پڑوسی ملک موجود ہیں، جس میں چاہیں دوڑتے ہوئے گھس جائیں، وہاں کی حکومتیں انہیں سر آنکھوں پر بٹھائیں گی، لاڈ لٹائیں گی، جھولے جھلائیں گی، اپنے وسائل ان کے سپرد کر دیں گی۔
ترکی ہے، مصر ہے، امارات ہے، اردن ہے، تیونس ہے، مراکش ہے۔ ان کے پاس کمی کیا ہے۔ کمی تو غزہ والوں کے لئے ہے۔ دنیا کا مختصر ترین رقبہ ان کے پاس تھا، اسرائیل نے اسے بھی برباد کر ڈالا، دنیا کے سب سے بڑے قبرستان میں بدل ڈالا۔ وہ کہیں جا سکتے ہیں نہ کوئی ان کی مدد کو آ سکتا ہے۔ وہ ویڈیو دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیو میں شامل ہو گئی جس میں دکھایا گیا کہ ایک یورپی ملک سے کوئی امدادی وفد مصر پہنچا اور کہا، ہم آپ کے مسلمان بھائیوں غزہ والوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ مصری فوج نے اس وفد کو مارا، دھکے دیئے، ان پر گندے پانی کی بوتلیں پھینکیں، انہیں گالیاں دیں۔ وفد والے رونے لگے، اپنی پٹائی پر نہیں، اس بات پر کہ غزہ کے بھوکے پیاسے لوگوں تک مدد پہنچنے نہیں دی جا رہی۔
______
گزشتہ برس اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، ایران نے جوابی کارروائی میں سینکڑوں ہزاروں ڈرون اور راکٹ اسرائیل پر لانچ کر دیئے لیکن یہ ڈورون اور راکٹ لگا کہ کاغذ کے بنے ہوئے ہیں، اسرائیل میں مکھی تک نہ مری۔ اب جو اسرائیل نے بڑا بھاری حملہ ایران پر کیا اور ایران نے دھمکی دی کہ وہ درد ناک انتقام لے گا تو کسی نے اس دھمکی کو سنجیدہ نہیں لیا اور ظاہر ہے، سنجیدہ لینے کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی۔ لیکن ایران نے حیران کر دیا۔ ایسے مہیب میزائل تاک تاک کر اسرائیل پر مارے کہ تباہی مچا دی۔ اس کے سپر سانک میزائیلوں نے اسرائیل کے ’’ناقابل تسخیر، آئرن ڈوم کو اڑا کر رکھ دیا۔ بڑے بڑے سکائی سکریبر دھکتی آگ کے مینار بن گئے۔ اور تو اور ٹرمپ کے بھی ہوش اڑ گئے۔
ایران کے پاس ایئرفورس نہیں ہے، اس کے پاس فضائی شیلڈ بھی نہیں ہے اور تو اور اس کے پاس بری فوج بھی نہیں ہے (وضاحت تھوڑا آگے چل کر) لیکن اس کے پاس خوفناک میزائلوں کی بڑی تعداد ہے۔ امریکی رپورٹوں کے مطابق 13ہزار دیگر ذرائع کے مطابق اس سے بھی زیادہ۔ چنانچہ ایران نے اس واحد صلاحیت کا زبردست استعمال کیا۔
اسرائیل نے پہلے روز دو سو جہازوں سے ایران پر بمباری کی، اگلے روز 150 جہازوں سے۔ اس نے ایران کی آئل ریفائنریاں، تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈے، اسلحہ گودام، حکومتی عمارات، ایٹمی تنصیبات کے وہ حصے جو زمین کے اوپر تھے سب اڑا دیئے۔ ایران کی فضائیہ ہوتی تو مزاحمت کرتی، نہیں تھی، مزاحمت بھی نہیں ہوئی۔ اس کا فضائی شیلڈ متحرک ہوا لیکن دو چار ڈرون گرانے کے علاوہ، کچھ نہ کر سکا۔ اسرائیلی ایف 35 طیاروں کی تباہی کا دعویٰ کیا گیا، لیکن یہ محض دعویٰ تھا۔ اسرائیل نے صف اول کی عسکری قیادت کے 20 عہدیداروں اور ڈیڑھ درجن ٹاپ سائنس دانوں کو بھی مار ڈالا۔ ایران کی روایتی فوج 6 لاکھ کی سپاہ ہے لیکن اسے محض ماضی کی یادگار کے طور پر رکھا گیا ہے۔ اس کے لئے نہ تو خاص فنڈز ہیں نہ ہی مناسب ہتھیار۔ بے دست و پا سی فوج ہے جو جنگ لڑ ہی نہیں سکتی۔
اصل فوج پاسداران انقلاب ہے۔ بے تحاشا فنڈ، اچھا خاصا اسلحہ اور بے پناہ اختیارات لیکن اس کی تربیت اور استعمال اینٹی رائیٹس فورس (بلوے، ہنگامے، مظاہرے دبانے والی فورس) کے طور پر کی گئی۔ شام میں بھی اس نے یہی کردار ادا کیا۔ بری جنگ لڑنے کی ان میں صلاحیت نہیں ہے۔ اسرائیل کی جنگی مشینں بہت بڑی ہے۔ امریکہ اس کا اسلحی گودام ہے، ایران بڑی مشکل میں پھنس گیا۔
ایران کے پاس جاسوسی نظام کی نوعیت بھی سیاسی ہے یا سیکیورٹی کا عنصر رکھا ہی نہیں گیا۔ چنانچہ اسرائیل نے ایک ہوائی اڈہ تہران کے پاس بنا لیا، ایران کو پتہ ہی نہ چلا۔ اس اڈے میں اسرائیل نے ڈرون طیارے بنانے کی فیکٹری بھی بنا رکھی ہے، ایران کے فرشتوں کو بھی خبر نہ ہو سکی۔ جنگ چھڑی تو یہ اڈے پکڑے گئے۔ ایسی بے خبری کبھی دیکھی نہ سنی۔
یہ جنگ کہاں جائے گی۔ ایران میں بہت نقصان ہوا ہے، تہران برباد ہو گیا۔ اس کی ’’ایلیٹ کلاس‘‘طبقہ اشرافیہ کے لوگ شہر چھوڑ کر ملک کے دوسرے علاقوں کو بھاگ رہے ہیں، بعض تو سرحد پار کر کے ترکی چلے گئے۔ اسرائیل میں بھی بہت تباہی ہوئی لیکن غزہ کے قتل عام کی ذمہ داری وہ بدستور ادا کر رہا ہے۔ اس میں کوئی وقفہ نہیں آیا، ہر روز سو دو سو کے حساب سے غزہ والے قتل ہو رہے ہیں۔
ایران نے پاکستان کو دشمن سمجھ کر بھارت سے یاری لگائی اور بھارت نے یہ کام دکھایا کہ اسرائیلیوں سے مل کر ایران کی جاسوسی کی اور سبوتاڑ کی کارروائیاں کیں اور اب بھارت کھلم کھلا اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے۔
چلئے ایک نتیجہ اس جنگ کا یہ نکلا کہ ایران کو پتہ چل گیا، اس بات کا کہ دشمن پاکستان نہیں ہے، دشمن بھارت ہے۔ اس جنگ میں پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔
عبداللہ طارق سہیل






