دبئی/لاہور/نئی دہلی (اسپورٹس ڈیسک) — خطے کی سیاسی کشیدگی کے باوجود کرکٹ کا جادو ایک بار پھر سر چڑھ کر بولے گا، کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی وولٹیج مقابلہ ایشیا کپ 2025 میں دیکھنے کو ملے گا۔ کرکٹ شائقین کے لیے یہ خبر کسی خوشخبری سے کم نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشیا کپ کا انعقاد ستمبر 2025 میں متوقع ہے، جو ٹی20 فارمیٹ پر کھیلا جائے گا تاکہ ٹی20 ورلڈکپ 2026 کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ ایونٹ کی میزبانی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کرے گا، تاہم رائٹس بھارت کے پاس ہی رہیں گے۔ یہ چوتھی بار ہوگا کہ یو اے ای اس ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔
پاک-بھارت مقابلہ: شائقین کے لیے سنسنی کی نوید
ایشیا کپ میں روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ ٹاکرے کی خبریں کرکٹ حلقوں میں جوش و خروش کی لہر دوڑا چکی ہیں۔ یہ میچ ٹی20 ورلڈکپ سے قبل مداحوں کے لیے ایک بہترین موقع ہو گا، جس میں انہیں عالمی سطح کی سنسنی خیز کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔
کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھنے کی کوشش
فوربس کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر بھارت یا پاکستان میں سے کوئی ٹیم ایونٹ سے دستبردار ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف ایشیا کپ کا توازن متاثر ہوگا بلکہ 170 ملین ڈالر کے میڈیا حقوق پر بھی اثر پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایشین کرکٹ کونسل (ACC) نے ایونٹ کو غیر جانبدار مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ٹورنامنٹ کا کامیاب انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔
یو اے ای کی میزبانی: ایک بار پھر
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات اس سے قبل بھی تین بار ایشیا کپ کی میزبانی کر چکا ہے:
1984 (افتتاحی ایڈیشن)
1995 (پانچواں ایڈیشن)
2018 (چودھواں ایڈیشن)
اب 2025 میں چوتھی بار یہ اعزاز دوبارہ یو اے ای کو ملنے جا رہا ہے، جو اس خطے میں کرکٹ کے لیے ایک محفوظ اور نیوٹرل مقام کے طور پر سامنے آیا ہے۔
کرکٹ کی فتح، سرحدوں سے بالاتر
سیاسی کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کا ایک ساتھ ایشیا کپ میں شرکت کرنا کرکٹ کے حق میں ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے۔ شائقین کو اب صرف سرکاری شیڈول کے اعلان کا انتظار ہے تاکہ وہ اپنی ٹیموں کو ایکشن میں دیکھنے کے لیے تیاری شروع کر سکیں۔






