پاک بھارت کشیدگی کے باعث ایشیاکپ 2025 کے انعقاد پر سوالیہ نشان
اسلام آباد: پاک بھارت کشیدگی کے باعث رواں برس ستمبر میں شیڈول ایشیاکپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے انعقاد کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ گزشتہ ماہ دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان چار روز تک جاری رہنے والی شدید جھڑپوں اور بعد ازاں سیز فائر کے باوجود سیاسی تلخی بدستور قائم ہے، جس کے باعث ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے تحت ہونے والے ایشیا ٹی 20 ایونٹ کا انعقاد خطرے میں دکھائی دے رہا ہے۔
بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ "ہم نے ایشیاکپ کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی، ہماری توجہ فی الحال انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) اور انگلینڈ کے دورے پر مرکوز ہے۔”
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ایک عہدیدار نے معاملے پر کوئی واضح موقف دینے سے گریز کیا اور کہا کہ "جب وقت آئے گا، تب فیصلہ کریں گے۔” اسی طرح اے سی سی کے صدر اور پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی بھی اس معاملے پر کسی قسم کی رائے دینے سے پرہیز کر رہے ہیں۔
ایشیا کی کرکٹ میں یہ غیر یقینی صورتحال صرف ایشیاکپ تک محدود نہیں، کیونکہ اے سی سی نے پیر کو سری لنکا میں شروع ہونے والے ویمنز ایمرجنگ ایشیاکپ کو شدید موسم اور چکن گنیا وائرس کے باعث ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال خواتین کا ون ڈے ورلڈکپ بھارت میں منعقد ہونے جا رہا ہے، تاہم آئی سی سی کی خاص پالیسی کے تحت پاکستان اپنی تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جو کہ سیکیورٹی خدشات اور سیاسی حالات کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں بھارت اور پاکستان کے درمیان باہمی کرکٹ تعلقات معطل ہو چکے ہیں۔ آخری باہمی وائٹ بال سیریز 2013 میں کھیلی گئی تھی، اس کے بعد دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی یا اے سی سی کے زیر اہتمام ملٹی نیشنل ایونٹس میں ہی آمنے سامنے آئی ہیں۔
اس سال کی چیمپیئنز ٹرافی میں بھی بھارت نے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کیا اور اپنے تمام میچز دبئی میں کھیلے۔ بھارتی ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ وہ نیوٹرل وینیو پر بھی پاکستان کے خلاف کھیلنے کے حامی نہیں، تاہم انہوں نے بی سی سی آئی کے فیصلے کا احترام کرنے کا عندیہ دیا۔






