کالمز

بھارت دنیا کی طرف دیکھ رہا ہے

تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔محمد اکرم چوہدری
بھارت نے پاکستان پر رات کے اندھیرے میں حملہ کیا اور اپنے نام نہاد جرنلسٹوں اور تجزیہ کاروں کے زریعے دنیا بھر سے فیک نیوز کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کیا مگر ابھی تک انکی فیک نیوز کا درست ہونے کو کسی اپنے نے بھی تسلیم نہیں کیا بھارتی میڈیا کے اس طوفان بدتمیزی کا اب منفی اثرکا بھارت کو سامنا ہے اور آئی پی ایل کی منسوخی نے دنیا بھر میں بھارت نے جگ ہنسائی کا موقع فراہم کیا۔ کرکٹ کو سیاست میں ملوث کرنے کے بعد اب امن امان کی تباہی کاثبوت بھی اسی سے دنیا کو مل رہا ہے کہ بھارت کے عوام خوف کا شکار ہیں اور اپنے ہی ملک میں دہشت کی فضا بنا ڈالی چلتی معیشت اب رک رک کے آگے کی طرف دیکھ رہی ہے کہ کل کیا ہوگا یہ چمکتے دمکتے بھارت کی روشنیاں کیوں جل بجھ رہی ہیں پاکستان کیا کرنے والا ہے کب کرے گا کیا کرے گا اس کے علاوہ اب کوئی موضوع نہیں ہے ادھر پاکستان میں ہر طرف اللہ اکبر کے نعرے بلند ہو رہے ہیں پاکستان زندہ باد پاک فوج زندہ باد کے فلک شگاف نعرے سرحد کے دوسری پار بھی دطشت کی علامت بن گئے ہیں ایل او سی پر ہر گھنٹے بعد بھارتی فوج پسپا ہو رہی ہے اور ہر طرف سے سفید جھنڈے لہرائے جا رہے ہیں اور ادھر بھارتی میڈیا جھوٹ پرجھوٹ بولے جا رہا ہے انکے اور اسرائیلی اتحاد کی نشانی ڈرون ہر گلی میں گرے ہوئے ہیں جو پاکستان میں نہ جانے کیا تلاش کرنے آتے ہیں اور خاموشی سے گر جاتے ہیں ادھر انڈین میڈیا انکے حملے کی خبر جاری کرتاہے ادھر پاکستان اسکی تباہی کی ویڈیو جاری کر دیتا ہے اب بھارت دیکھ رہا ہے کہ دنیا کب روکتی ہے اور اسکو کو منہ چھپانے کا موقع ملتا ہے ادھر پاکستانی عوام جوابی کاروائی کا مطالبہ کررہی ہے مگرہماری افواج اپنی حکمت عملی کے تحت بھارت کو رونے پر مجبور کر رہی ہیں۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری یکطرفہ جنگ بھارتی معیشت کو تباہ کر سکتی ہے جو بھارت کے لیے اسوقت سب سے بڑا خوف بن گئی ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ملک کا بیڑہ غرق کر رہا ہے مودی کا جنوں اور پاگل پن بلکہ اس گیدڑ کی طرح جو پاگل ہونے کے بعد اپنے ہی کھیت برباد کرنے شروع کر دیتا ہے بڑھتی ہوئی کشیدگی تجارتی رکاوٹوں کا باعث بن سکتی ہے، جس سے ہندوستان کی معیشت متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر اگر تنازعہ بڑھتا ہے اور عالمی سپلائی چین متاثر ہوتے ہیں۔غیر یقینی اور عدم استحکام سرمایہ کاروں کو روک سکتا ہے، ممکنہ طور پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو کے بہاؤ کو متاثر کرتا ہے۔تنازعات کے ارد گرد غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ہندوستان کی اسٹاک مارکیٹیں اتار چڑھاؤ کا سامنا کر سکتی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کے جذبات اور اعتماد متاثر ہوتے ہیں۔
فوجی اخراجات میں اضافہ اور بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ نقصان ہندوستان کی مالیات کو دبا سکتا ہے اور اس کے مالیاتی خسارے کو متاثر کرسکتا ہے۔ عالمی معیشت میں ہندوستان کے انضمام کو دیکھتے ہوئے، ایک طویل تنازعہ عالمی تجارت، اجناس کی قیمتوں اور اقتصادی استحکام پر شدید اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ہندوستانی معیشت کے لیے کچھ ممکنہ خطرات میں شامل ہیں جس پر بھارتی سرمایہ کار مودی سے شدید غم غصے کا اظہار کر رہے ہیں جو بی جے پی کی تباہی کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔
سپلائی چین میں رکاوٹیں، خاص طور پر فارماسیوٹیکل، ٹیکسٹائل اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں، برآمدات اور ملکی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے۔نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات، ممکنہ قلت، اور سپلائی چین میں رکاوٹیں افراط زر کے دباؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔طویل تناؤ معاشی ترقی کو سست کر سکتا ہے، جس سے مینوفیکچرنگ، خدمات اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ہندوستانی معیشت پر اصل اثر مختلف عوامل پر منحصر ہوگا، بشمول تنازعہ کی مدت اور شدت، عالمی ردعمل، اور ہندوستان کی اقتصادی لچک۔بھارتی سرمایہ کار مایوسی اور نا امیدی کا شکار ہیںبھارتی سرمایہ کار اپنی حکومت کو کول ڈائون کا مشورہ دے رہے ہیں مگر سفارتی سطح پر بھارت کے لیے شرمندگی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا ہے۔
پاک بھارت کشیدگی پر عالمی برادری کا ردعمل مختلف رہا ہے، کچھ ممالک نے تحمل اور دوسروں نے محتاط موقف برقرار رکھنے پر زور دیا۔ خاموشی یا بے عملی کئی عوامل کی وجہ سے ہو سکتی ہے کچھ ممالک کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پس پردہ سفارتی کوششوں میں مصروف ہو سکتے ہیں۔ پاکستان بھارت تنازعہ ایک دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے یہ عالمی برادری کے لیے فیصلہ کن مؤقف اختیار کرنا مشکل بنا ہوا ہے۔دیگر عالمی مسائل، جیسے کہ COVID-19 وبائی بیماری، موسمیاتی تبدیلی، یا دوسرے خطوں میں تنازعات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ممالک دونوں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہوئے براہ راست مداخلت کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔
تاہم کچھ بین الاقوامی تنظیموں اور ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور تحمل پر زور دیا ہے، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے بات چیت اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پرسکون اور تحمل کا مطالبہ کیا ہے۔امریکہ نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور اپنے اختلافات کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مشغول ہوں۔چین نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور تنازع کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔
بین الاقوامی برادری کا ردعمل ممکنہ طور پر تیار ہوتا رہے گا جیسے جیسے حالات ہوں گے۔بھارت کی ہٹ دہرمی اور عالمی قوانیں کا احترام نہ کرنا بھی بہت اہم وجہ ہے کہ اقوام خاموشی سے دیکھ رہی ہیں جو بھارت کے لیے مایوسی کی وجہ بن رہا ہے جب کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنا مقدمہ اپنے عمل اور خاموشی کے ساتھ لڑرہا ہے۔

محمد اکرم چوہدری

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button