کرکٹکھیل

جنگی حالات میں کھیل کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے: بھارتی کرکٹرز اور صحافیوں کے بیانات پر تنقید

اسلام آباد: حالیہ کشیدہ حالات کے باوجود کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے کی عالمی روایت ایک بار پھر بھارتی کرکٹرز اور صحافیوں کے بیانات کے باعث متنازع بنتی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جس میں کئی قیمتی رافیل طیارے اور درجنوں ڈرونز تباہ ہوئے، لیکن اس کے باوجود بھارتی کرکٹرز اور میڈیا نمائندوں نے اسے "کامیابی” کا رنگ دینے کی کوشش کی۔

چیمپیئنز ٹرافی کے دوران پاکستان کا دورہ کرنے والے بھارتی صحافی وکرانت گپتا، جنہوں نے چند ماہ قبل پاکستانی میزبانی اور عوامی رویے کی بھرپور تعریف کی تھی، اب اچانک مؤقف بدلتے ہوئے بی سی سی آئی کو پاکستان کے ساتھ ہر قسم کے میچز کے بائیکاٹ کا مشورہ دے رہے ہیں۔

سابق بھارتی کپتان سنیل گواسکر نے بھی حالیہ تبصرے میں ایشیا کپ 2025 میں پاکستان کی شرکت پر سوالیہ نشان اٹھایا، جس پر شائقین کرکٹ سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے کہ کھیل کو سرحدی کشیدگی کے تناظر میں سیاسی آلہ کار نہ بنایا جائے۔

یاد رہے کہ 2012-13 کے بعد سے پاک بھارت کرکٹ تعلقات صرف ایشیا کپ اور آئی سی سی ایونٹس تک محدود ہیں، اور کسی بھی دو طرفہ سیریز کا انعقاد تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔

اس تناظر میں پاکستانی کرکٹ شائقین اور تجزیہ کاروں نے زور دیا ہے کہ کھیل کو دنیا بھر میں امن، رواداری اور مکالمے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اور اسے کسی بھی طور جنگی بیانیے کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔

واضح رہے کہ ایشیا کپ 2025 کی میزبانی بھارت کر رہا ہے، جبکہ ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے موجودہ چیئرمین محسن نقوی ہیں۔ کرکٹ حلقے امید کر رہے ہیں کہ ایونٹ کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھا جائے گا تاکہ کھیل اپنی اصل روح کے مطابق جاری رہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button