لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے پہلگام واقعے کو بھارت کی جانب سے ایک "بڑا ڈرامہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی نیت پہلے دن سے ہی پاکستان کے ساتھ کھیلنے یا تعلقات بہتر بنانے کی نہیں رہی۔
نیشنل ہاکی اسٹیڈیم کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ پہلگام واقعہ محض ایک سیاسی چال ہے، جس کا مقصد دنیا کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیسے ممکن ہے کہ نامعلوم افراد ایک گھنٹے تک کارروائی کرتے رہیں اور بھارت کی 8 لاکھ فوج حرکت میں نہ آئے۔
شاہد آفریدی نے بھارت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ "وہ اپنے لوگوں کو خود مروا کر خود زندہ کرواتے ہیں، تاکہ جھوٹے بیانیے کو فروغ دیا جا سکے۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی، مگر جواب میں ہمیشہ منفی رویہ سامنے آیا۔
سابق کپتان نے 2016 کے ٹی20 ورلڈ کپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت حالات کشیدہ تھے، اس کے باوجود پاکستانی ٹیم بھارت گئی، لیکن بھارت اب کبڈی ٹیم کو آنے دیتا ہے، کرکٹ ٹیم بھیجنے سے گریز کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "اگر تعلقات خراب رکھنے ہیں تو ہر شعبے میں رکھیں، صرف کھیل کو نشانہ نہ بنائیں۔”
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے بارے میں بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ جنہوں نے لیگ کا آغاز کیا تھا، انہیں ہی جاری رکھنا چاہیے تھا۔ انہوں نے فرنچائز مالکان کے مالی نقصان کے دعوؤں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "بہت سے مالکان نے اس سے فائدہ بھی اٹھایا ہے۔”
شاہد آفریدی نے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کی کارکردگی پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "جب جنوبی افریقہ کو ہرایا تو کسی نے نہیں کہا کہ میرے ہاتھ میں کچھ نہیں، کپتان کو بہانے نہیں، ذمہ داری لینی چاہیے۔”
اپنی خدمات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ "مجھے پاکستان کرکٹ ٹیم سے ذاتی دلچسپی نہیں، لیکن اگر کچھ کام لینا ہے تو گراس روٹ لیول پر لیا جائے، جہاں اصل ٹیلنٹ پروان چڑھتا ہے۔”
قومی کھیل ہاکی پر بات کرتے ہوئے آفریدی نے موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسپورٹس منسٹری کی توجہ ہاکی جیسے اہم کھیل پر نہیں ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے توقع ظاہر کی کہ وہ کھیل خصوصاً ہاکی پر خصوصی توجہ دیں گے۔
آخر میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے اپنی حالیہ ملاقات پر آفریدی کا کہنا تھا کہ "نہ کسی کی چغلی کی، نہ کسی سے چھپ کر ملا، ملاقات واضح اور باوقار تھی۔”






