کھیل

پی ایس ایل؛ "ہمیں فرنچائزز کے کوئی مالکانہ حقوق حاصل نہیں” انکشاف

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی سابق چیمپیئن ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے بورڈ کے فرنچائز ریٹینشن رینٹل ماڈل پر کڑی تنقید کی ہے۔

کرک وِک کو انٹرویو دیتے ہوئے معروف فرنچائز ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور پی ایس ایل انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لیگ کی تمام فرنچائزز اس وقت ’رینٹل ماڈل‘ پر چل رہی ہیں، جس میں ٹیم کے مالکان حقیقی ملکیت نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم فرنچائز مالکان ہر سال ٹیموں کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے کرایہ ادا کرتے ہیں، اگر وہ ادا نہیں کرتے تو ہمارے پاس ملکیتی حقوق نہیں ہیں، جب کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی طرح غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع نہیں ہیں۔

نئی ٹیموں کا مسئلہ؛

علی ترین نے کہا کہ پی سی بی نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں ایڈیشن کے لیے 8 ٹیموں کے لیے ابھی تک کوئی واضح پلان پیش نہیں کیا۔

انکا کہنا تھا کہ پی ایل مالکان اپنی ٹیموں کو کسی کو بھی فروخت کر رہے ہیں، آپ کو یہ بورڈ دیکھتا ہے کہ وفادار پیسا اور کس طرح ٹیم لکھ سکتا ہے لیکن ہمارے پاس آپشن نہیں ہے۔علی ترین کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کی موجودہ ٹیم غیر قانونی ہے، ہمیں اپنی ٹیموں پر کوئی طویل المدتی کنٹرول نہیں ہے، نئی ٹیموں کی جانب سے پہلے واضح پالیسی کی ضرورت ہے، لیگ کا مستقبل میں جانا پڑے گا۔

دوسری جانب پی ایس ایل کے 11 جنوری کو بورڈ کی جانب سے 2 نئی ٹیموں کو شامل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس کے لیے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے لیے خریدار بھی مل گئے ہیں، تاہم ان کی ملکیت کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button