ویب ڈیسک: عالمی سطح پر مختلف محاذوں پر تنقید اور دباؤ کے باوجود بھارت کھیل کے میدان میں بھی نفرت انگیز سیاست سے باز نہ آیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انتہا پسند ہندوتوا جماعت شیوسینا کے مطالبے پر بنگلادیشی کھلاڑیوں کی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی نے بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کی ملکیت فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کو ہدایت جاری کی ہے کہ بنگلادیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ٹیم سے نکال دیا جائے۔
بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ کی جانب سے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو اس حوالے سے باضابطہ احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے گزشتہ دسمبر میں ہونے والی آئی پی ایل نیلامی کے دوران مستفیض الرحمان کو 9 کروڑ 20 لاکھ بھارتی روپے میں خریدا تھا، جو آئی پی ایل کی تاریخ میں کسی بھی بنگلادیشی کھلاڑی کو ملنے والی سب سے بڑی رقم تھی۔
تاہم انتہا پسند ہندو عناصر کی جانب سے بنگلادیشی کھلاڑیوں کی آئی پی ایل میں شمولیت کو متنازع بنا دیا گیا، جس کے بعد کھیل کو بھی سیاسی اور نظریاتی تعصب کی نذر کیے جانے پر شدید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔






