میلبرن: انگلش کرکٹ ٹیم نے ایشز سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میں میزبان آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر ایک طویل عرصے کے بعد آسٹریلوی سرزمین پر فتح کا ذائقہ چکھ لیا۔ میلبرن کرکٹ گراؤنڈ (MCG) میں کھیلا گیا یہ میچ محض دو ہی روز میں انجام کو پہنچا۔
میچ کا احوال: انگلینڈ کی فیصلہ کن برتری
سیریز کے چوتھے ٹیسٹ کے دوسرے روز آسٹریلوی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پوری ٹیم دوسری اننگز میں محض 132 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ انگلینڈ کو جیت کے لیے 175 رنز کا ہدف ملا جو اس نے 33ویں اوور میں 6 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ اس جیت کے ساتھ ہی انگلینڈ نے سیریز کا خسارہ کم کر کے 3-1 کر دیا ہے۔
نمایاں کارکردگی
انگلش باؤلنگ: برائیڈن کارز نے تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ کپتان بین اسٹوکس نے 3 اور جوش ٹنگ نے 2 وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلوی بیٹنگ کی کمر توڑ دی۔
بیٹنگ: ہدف کے تعاقب میں جیکب بیتھل (40)، زیک کرالی (37) اور بین ڈکٹ (34) کی ذمہ دارانہ بیٹنگ نے انگلینڈ کو فتح کی راہ دکھائی۔
آسٹریلوی مزاحمت: دوسری اننگز میں ٹریوس ہیڈ 46 رنز کے ساتھ نمایاں رہے جبکہ جھے رچرڈسن، اسکاٹ بولینڈ اور مچل اسٹارک نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں مگر وہ اپنی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔
ایک یادگار ریکارڈ
انگلینڈ کی یہ جیت کئی لحاظ سے تاریخی ہے:
انگلینڈ 15 سال اور 19 ٹیسٹ میچوں کے طویل وقفے کے بعد آسٹریلیا میں کوئی ٹیسٹ جیتنے میں کامیاب ہوا ہے۔
ایشز سیریز میں آسٹریلیا کو پہلے ہی 3-1 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے، تاہم اس جیت نے انگلینڈ کے مورال کو بلند کیا ہے۔
دو روزہ ٹیسٹ اور مالی نقصان
پرتھ ٹیسٹ کی طرح میلبرن ٹیسٹ بھی محض دو ہی روز میں ختم ہو گیا۔ میچ کے اتنی جلدی ختم ہونے کی وجہ سے ‘کرکٹ آسٹریلیا’ کو گیٹ منی اور اشتہارات کی مد میں ایک بار پھر بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔






