بی پی ایل میں ڈرامہ: سابق بنگلہ دیشی کپتان خالد محمود ٹیم مالک کی بدتمیزی پر ٹریننگ سیشن چھوڑ کر رکشے میں روانہ
سلہٹ (کھیلوں کی دنیا): بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (BPL) اس وقت تنازع کا شکار ہو گئی جب سلہٹ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں نوکھالی ایکسپریس کے کوچ اور سابق قومی کپتان خالد محمود شدید ناراضگی کے باعث پریکٹس سیشن کا بائیکاٹ کر کے رکشے میں بیٹھ کر اسٹیڈیم سے باہر چلے گئے۔
واقعے کی وجوہات: گیندوں کی کمی اور تلخ کلامی
ذرائع کے مطابق اس ہنگامے کی اصل وجہ پریکٹس سیشن کے لیے گیندوں کی عدم دستیابی بنی۔
جب خالد محمود نے اس بدانتظامی پر احتجاج کیا تو ٹیم کے مالک کے ساتھ ان کی تلخ کلامی ہوئی۔
بتایا جا رہا ہے کہ ٹیم مالک نے سابق کپتان کے ساتھ بدتمیزی کی، جس کے بعد خالد محمود نے فوری طور پر میدان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
رکشے میں واپسی اور میڈیا سے گفتگو
خالد محمود کے ہمراہ بولنگ کوچ طلحہ نے بھی سیشن کا بائیکاٹ کیا۔ دونوں سینئر کوچز کو اسٹیڈیم سے رکشے میں بیٹھ کر جاتے ہوئے دیکھ کر ہر کوئی حیران رہ گیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد محمود نے اپنی مایوسی کا اظہار ان الفاظ میں کیا:
"میں نے بی پی ایل کی تاریخ میں آج تک ایسی صورتحال کبھی نہیں دیکھی۔ میں اب کسی بھی صورت اس لیگ میں کام نہیں کروں گا۔”
ڈرامائی موڑ: واپسی اور کیریئر کا تحفظ
اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد صورتحال میں اس وقت تبدیلی آئی جب خالد محمود کے ایک قریبی دوست نے ان سے رابطہ کیا۔
دوستانہ مشورہ: انہیں سمجھایا گیا کہ اس طرح اچانک لیگ چھوڑنے سے ان کے پیشہ ورانہ کیریئر پر طویل مدتی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
واپسی: اس مشورے اور قائل کرنے کے بعد، خالد محمود اور بولنگ کوچ طلحہ دونوں چند گھنٹوں بعد واپس پریکٹس سیشن میں پہنچ گئے اور اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال لیں۔
بی پی ایل کی ساکھ پر سوالات
کرکٹ حلقوں میں اس واقعے کو بی پی ایل کی انتظامیہ اور فرنچائز مالکان کے رویے کے حوالے سے ایک بڑا سوالیہ نشان قرار دیا جا رہا ہے۔ سابق کپتان کے ساتھ ایسا سلوک بنگلہ دیشی کرکٹ کے مداحوں میں بھی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔






