پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اسٹار بلے باز بابر اعظم نے کہا ہے کہ ریکارڈ تو بنتے رہتے ہیں، لیکن ان کا مقصد ہمیشہ ٹیم کو میچ جتوانا ہوتا ہے۔ راولپنڈی میں پاک سری لنکا ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں شاندار اننگز کھیلنے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم نے اپنی کارکردگی پر بات کی۔
بابر اعظم کا بیان
بابر اعظم نے کہا کہ گزشتہ سیریز میں ان کو اچھا آغاز تو ملا تھا، لیکن بدقسمتی سے وہ اس پرفارمنس کو برقرار نہیں رکھ سکے۔ تاہم، اس میچ میں انہوں نے فخر زمان کے ساتھ اننگز کا آغاز بہترین کھیلنے کے ارادے سے کیا تھا اور پھر صورتحال کے مطابق خود کو کھیل میں واپس لانے میں کامیاب ہوئے۔
بابر نے اپنی سنچری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "سنچری ہمیشہ حوصلہ دیتی ہے” اور اس بار بھی اسی جذبے نے انہیں آگے بڑھنے کی طاقت دی۔
محنت اور اعتماد کی اہمیت
بابر اعظم نے کہا کہ ان کی کامیابی ان کے مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ "لمبے عرصے کی محنت کے بعد آج کامیابی ملی ہے” اور مشکل وقت میں ذہن میں بے شمار خیالات آتے ہیں، لیکن حوصلہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کبھی مشکل وقت آئے، تو خود پر اعتماد رکھنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہر روز کے پلان پر محنت کی، جب مستقل مزاجی ہو تو نتیجہ ضرور ملتا ہے۔” بابر اعظم نے اپنے فٹنس کی جانب خصوصی توجہ دینے کی بات بھی کی اور تسلیم کیا کہ ٹف ٹائم میں فٹنس کو بہتر بنانے پر زیادہ کام کیا۔
قریبی لوگوں کا شکریہ
بابر اعظم نے اپنے قریبی کوچز شاہد اسلم، منصور رانا، اپنے گھر والوں اور بچپن کے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان مشکل وقت میں رہنمائی فراہم کی۔
تنقید کے حوالے سے بابر کا ردعمل
خراب فارم پر ہونے والی تنقید سے متعلق بابر اعظم نے کہا کہ انہوں نے اس تنقید کو نظر انداز کیا اور خود کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز رکھی۔ انہوں نے کہا کہ "سب کھلاڑیوں نے میرا ساتھ دیا اور فینز نے مجھے نہیں چھوڑا۔ ان سب کا بیک کرنا میرے لیے بوسٹر ثابت ہوا۔”
بابر اعظم کا یہ بیان ان کی ذہنی مضبوطی، محنت اور پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو نہ صرف ان کی پرفارمنس بلکہ پاکستانی کرکٹ کی کامیابی کے لیے بھی اہم ہے۔






