دنیا

مودی سرکار کے ہندوتوا نظریے نے بھارت کو فرقہ واریت اور مسلم استحصال کی ریاست بنا دیا

نئی دہلی: ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کٹھ پتلی نریندر مودی حکومت کے دور میں بھارت تیزی سے فرقہ واریت، مذہبی انتہا پسندی اور مسلمانوں کے منظم استحصال کی ریاست بن چکا ہے۔
بی جے پی حکومت کے ہندوتوا نظریے پر کاربند ہونے کے نتیجے میں بھارتی فوج، انتہا پسند تنظیمیں اور حکومتی عہدیداران کھلم کھلا مسلم مخالف بیانات اور اقدامات میں مصروف ہیں۔
ذرائع کے مطابق فاشسٹ بھارتی فوج بھی ہندوتوا کے شدت پسند گروہوں کے ساتھ مل کر مذہبی اشتعال انگیزی پھیلانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔ ریاستی سرپرستی میں انتہا پسند ہندو رہنما نفرت انگیز اور مسلم مخالف بیانات کے ذریعے فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دے رہے ہیں۔
انتہا پسند ہندو رہنما یتی نرسنگھانند گری نے ایک اشتعال انگیز بیان میں کہا ہے کہ “دنیا میں اسلام نہیں رہے گا، صرف سناتن (ہندو مذہب) باقی رہے گا، ہم اسلام کو ختم کریں گے، یہ ہماری ماں اور بھگوان کی قسم ہے۔”
اس نے اپنے بیان میں کھلے عام اسلام دشمنی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “اسلام کو اس دنیا سے مٹا دیا جائے گا اور کوئی شخص اسلام کا نام لیوا نہیں رہے گا۔”
دوسری جانب بھارتی فوج بھی مذہبی تعصب کے اظہار میں پیش پیش ہے۔ بھارتی آرمی چیف نے حال ہی میں ہندو پنڈت جگدگرو رام بھدراچاریہ کے آشرم اور ہندو مندر کا دورہ کیا، جسے ہندوتوا نظریے کے فروغ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی ایک متنازع بیان میں کہا کہ “اگر واقعی امن اور ہم آہنگی قائم کرنی ہے تو سب کو سناتن دھرم اپنانا ہوگا۔”
سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں بھارت کا سیکولر تشخص عملاً ختم ہو چکا ہے۔ بی جے پی کے زیرِ سایہ حکومتی ادارے، بالخصوص فوج، پولیس اور عدلیہ، ہندوتوا نظریے کے فروغ میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مودی حکومت اور بی جے پی کی سرپرستی میں پورے بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا معمول بنتا جا رہا ہے، جب کہ عالمی برادری کی خاموشی اس انتہا پسندی کو مزید تقویت دے رہی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button