ایران نے مظاہرین کو پھانسی دی تو سخت کارروائی کریں گے، امریکی صدر کی ایران کو دھمکی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کے خلاف ممکنہ کارروائیوں پر سخت موقف اختیار کر دیا ہے۔ امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ابھی تک انہیں مظاہرین کو پھانسی دینے کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی، لیکن اگر ایسا ہوا تو امریکا بہت سخت ردعمل دے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا، "ہم نہیں چاہتے کہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ جاری رہے، لیکن جب ہزاروں افراد قتل کیے جائیں اور پھانسی دی جائے تو اس کے نتائج ایران کے لیے اچھے نہیں ہوں گے۔” انہوں نے اعلان کیا کہ ایرانی حکام سے ملاقات قتل عام بند ہونے تک ملتوی رہے گی۔
گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے والوں کو بغاوت پر اکسانے کے بیانات بھی دیے اور کہا کہ امریکی مدد جلد فراہم کی جائے گی۔ اس سے قبل امریکا نے اپنے شہریوں کو ایران سے ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی جاری کی تھی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران تقریباً 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکار دونوں شامل ہیں، لیکن ہلاکتوں کی تفصیلی تقسیم ابھی تک واضح نہیں کی گئی۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ جنہیں "دہشت گرد” قرار دیا گیا، وہی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔
ایران کی سرکاری سطح سے اب تک ہلاکتوں کے بارے میں کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے ہیں۔






