لاہور / کولمبو — پاکستان کرکٹ ٹیم کے آئندہ سال جنوری میں سری لنکا کے دورے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے لیے دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ اگر سیریز طے پا جاتی ہے تو آسٹریلوی لیگ بگ بیش کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں کو این او سی حاصل کرنے میں مزید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی میچز پر اتفاق ہوا ہے، جن کے لیے ممکنہ تاریخیں 8، 10 اور 12 جنوری تجویز کی گئی ہیں، جبکہ میچز کا مقام کولمبو ہوگا۔ حتمی اعلان دیگر تکنیکی معاملات طے پانے کے بعد متوقع ہے۔
پاک-افغان کشیدگی اور نومبر سیریز پر سوالیہ نشان
واضح رہے کہ سری لنکن ٹیم کو نومبر 2025 میں بھی پاکستان آنا ہے، جہاں 11 سے 15 نومبر تک تین ون ڈے میچز اور پھر 17 سے 29 نومبر تک افغانستان کی شمولیت سے ٹرائنگولر سیریز شیڈول ہے۔ تاہم حالیہ پاک-افغان کشیدگی کے باعث ٹرائنگولر سیریز کے انعقاد پر خدشات منڈلانے لگے ہیں، اور اس بات کا امکان ہے کہ صرف پاک-سری لنکا باہمی سیریز کھیلی جائے۔
بگ بیش لیگ اور پاکستانی کھلاڑیوں کا مستقبل
پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے ایشیا کپ کے بعد قومی کرکٹرز کے این او سی معطل کر دیے تھے۔ اس وقت بگ بیش لیگ میں 7 پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت متوقع ہے، جن میں شامل ہیں:
بابر اعظم (سڈنی سکسرز)
محمد رضوان، حسان خان (میلبورن رینیگیڈرز)
شاہین شاہ آفریدی (برسبین ہیٹ)
حسن علی (ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز)
حارث رؤف (میلبورن اسٹارز)
شاداب خان (سڈنی تھنڈرز)
یہ لیگ 14 دسمبر سے 25 جنوری تک آسٹریلیا میں جاری رہے گی، جو ممکنہ طور پر سری لنکا سیریز سے متصادم ہو سکتی ہے۔ اگر سیریز حتمی ہوئی تو پی سی بی کو کھلاڑیوں کی دستیابی اور این او سی سے متعلق سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔
بابر، رضوان اور شاداب کی واپسی کا امکان
گوکہ اس وقت بابر اعظم اور محمد رضوان قومی ٹی ٹوئنٹی سیٹ اپ کا حصہ نہیں ہیں، تاہم ان کی واپسی خارج از امکان نہیں۔ اسی طرح شاداب خان فٹنس کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جبکہ شاہین آفریدی اور حارث رؤف ٹیم کے ریگولر کھلاڑی ہیں۔
پی سی بی ممکنہ طور پر سری لنکا کے دورے کو ترجیح دے گا، اور بگ بیش میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے این او سی محدود یا منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔





