کرکٹکھیل

ٹرافی نہ ملنے پر بی سی سی آئی برہم، محسن نقوی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی تیاریاں ممبئی/لاہور: ایشین چیمپئن بننے کے باوجود ٹرافی نہ ملنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) شدید برہم ہو گیا ہے اور ذرائع کے مطابق ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) میں صدر محسن نقوی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر غور کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے ایشین کرکٹ کونسل میں "سازش کے بیج” بوئے جا رہے ہیں، اور بورڈ نے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی بھی کوشش کی ہے۔ 🔹 اے سی سی میں تقسیم کی خبریں باوثوق ذرائع کے مطابق، ایشین کرکٹ کونسل دو گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ پاکستان اور بنگلادیش ایک گروپ میں ہیں اور محسن نقوی کی حمایت کر رہے ہیں۔ جبکہ بھارت کو سری لنکا کی حمایت حاصل ہے۔ افغانستان کی پوزیشن غیر واضح ہے، جو کبھی ایک گروپ کا ساتھ دیتا ہے اور کبھی دوسرے کا۔ 🔹 محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف اے سی سی کے صدر محسن نقوی نے بھارتی ردِعمل پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے: "میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، اور نہ ہی بی سی سی آئی سے معافی مانگی ہے اور نہ مانگوں گا۔ اگر بھارت واقعی ٹرافی لینا چاہتا ہے تو بھارتی کپتان میرے دفتر آ کر ٹرافی وصول کر لے۔” 🔹 پسِ منظر واضح رہے کہ بھارت حالیہ ایشین ٹورنامنٹ میں چیمپئن بنا تھا، لیکن کچھ انتظامی وجوہات کی بنا پر ٹرافی کی تقسیم ممکن نہ ہو سکی۔ بھارتی میڈیا اور کرکٹ بورڈ اس تاخیر کو "جان بوجھ کر کی گئی توہین” قرار دے رہے ہیں۔ 🔹 ممکنہ اثرات اگر بی سی سی آئی کی جانب سے محسن نقوی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جاتی ہے تو یہ ایشین کرکٹ میں ایک نئے تنازع کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف اے سی سی بلکہ مستقبل کے ایشین ایونٹس پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ٹرافی نہ ملنے پر بی سی سی آئی برہم، محسن نقوی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی تیاریاں

ممبئی/لاہور: ایشین چیمپئن بننے کے باوجود ٹرافی نہ ملنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) شدید برہم ہو گیا ہے اور ذرائع کے مطابق ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) میں صدر محسن نقوی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر غور کر رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے ایشین کرکٹ کونسل میں "سازش کے بیج” بوئے جا رہے ہیں، اور بورڈ نے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی بھی کوشش کی ہے۔

اے سی سی میں تقسیم کی خبریں

باوثوق ذرائع کے مطابق، ایشین کرکٹ کونسل دو گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔

پاکستان اور بنگلادیش ایک گروپ میں ہیں اور محسن نقوی کی حمایت کر رہے ہیں۔

جبکہ بھارت کو سری لنکا کی حمایت حاصل ہے۔

افغانستان کی پوزیشن غیر واضح ہے، جو کبھی ایک گروپ کا ساتھ دیتا ہے اور کبھی دوسرے کا۔

محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف

اے سی سی کے صدر محسن نقوی نے بھارتی ردِعمل پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے:

"میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، اور نہ ہی بی سی سی آئی سے معافی مانگی ہے اور نہ مانگوں گا۔ اگر بھارت واقعی ٹرافی لینا چاہتا ہے تو بھارتی کپتان میرے دفتر آ کر ٹرافی وصول کر لے۔”

پسِ منظر

واضح رہے کہ بھارت حالیہ ایشین ٹورنامنٹ میں چیمپئن بنا تھا، لیکن کچھ انتظامی وجوہات کی بنا پر ٹرافی کی تقسیم ممکن نہ ہو سکی۔ بھارتی میڈیا اور کرکٹ بورڈ اس تاخیر کو "جان بوجھ کر کی گئی توہین” قرار دے رہے ہیں۔

ممکنہ اثرات

اگر بی سی سی آئی کی جانب سے محسن نقوی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جاتی ہے تو یہ ایشین کرکٹ میں ایک نئے تنازع کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف اے سی سی بلکہ مستقبل کے ایشین ایونٹس پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button