دنیا

امریکا میں شٹ ڈاؤن: کانگریس سے فنڈنگ بِل منظور نہ ہونے پر بیشتر سرکاری محکمے بند

واشنگٹن: امریکی کانگریس کی جانب سے فنڈنگ بِل کی منظوری میں ناکامی کے باعث امریکا میں سرکاری شٹ ڈاؤن نافذ ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد وفاقی محکمے بند ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شٹ ڈاؤن کے سبب:

750,000 سے زائد وفاقی ملازمین کو جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔

امریکی فوجی اہلکاروں کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی متاثر ہوگی۔

فضائی سفر میں تاخیر اور خلل متوقع ہے۔

سائنسی تحقیق کے کئی منصوبے معطل کر دیے گئے ہیں۔

روزگار سے متعلق اہم اعداد و شمار جاری نہیں کیے جا سکیں گے۔

ماہرین کے مطابق اس شٹ ڈاؤن کے باعث امریکی معیشت کو روزانہ تقریباً 400 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جو نہ صرف داخلی سطح پر مسائل کو بڑھا رہا ہے بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔

یاد رہے کہ سینیٹ نے 21 نومبر تک حکومت کو چلانے کے لیے درکار عارضی اخراجاتی بِل کو مسترد کر دیا تھا۔

ڈیموکریٹس نے بل کی مخالفت اس بنیاد پر کی کہ اس میں صحت عامہ سے متعلق امور شامل نہیں کیے گئے۔

ریپبلکنز نے لاکھوں امریکیوں کے لیے ختم ہونے والے ہیلتھ بینیفٹس کی توسیع کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مسئلہ الگ سے حل کیا جانا چاہیے۔

شٹ ڈاؤن کے پیچھے اصل اختلاف 1.7 کھرب ڈالر کی مجوزہ سرکاری فنڈنگ ہے، جس پر دونوں جماعتوں کے درمیان شدید سیاسی کشمکش جاری ہے۔

امریکی عوام اور عالمی مبصرین کی نظریں اب کانگریس پر ہیں کہ کب کوئی سیاسی مفاہمت سامنے آتی ہے، تاکہ حکومتی مشینری دوبارہ مکمل طور پر فعال ہو سکے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button