عمان / یروشلم – اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے مزید 131 ارکان کو ڈی پورٹ کر دیا، جن میں سابق پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔ تمام افراد کو اردن کے راستے واپس ان کے متعلقہ ممالک روانہ کیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، اسرائیلی حکام نے فلوٹیلا کے ارکان کو حراست میں لینے کے بعد مشترکہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اردن کے ذریعے ڈی پورٹ کیا۔ اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق تمام افراد کو حسین پل کے ذریعے ملک میں داخل کرایا گیا تاکہ ان کی محفوظ واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
ڈی پورٹ ہونے والے افراد کا تعلق پاکستان، بحرین، تیونس، الجزائر، عمان، کویت، لیبیا، ترکیہ، ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، کولمبیا، جمہوریہ چیک، جاپان، میکسیکو، نیوزی لینڈ، سربیا، جنوبی افریقا، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، امریکا اور یوراگوئے سمیت مختلف ممالک سے ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سابق سینیٹر مشتاق احمد کی رہائی اور اردن پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں بتایا کہ مشتاق احمد اس وقت اردن میں پاکستانی سفارت خانے میں بحفاظت موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سفارت خانہ مشتاق احمد کی سہولت اور خواہش کے مطابق ان کی وطن واپسی میں ہر ممکن معاونت فراہم کرے گا۔ اسحاق ڈار نے اس موقع پر ان تمام دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ساتھ تعاون کیا اور اس کوشش کو کامیاب بنایا۔
واضح رہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا غزہ کے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی اور محاصرے کے خلاف عالمی سطح پر اٹھنے والی ایک امن مہم ہے، جسے اسرائیل نے روک کر کئی ممالک کے کارکنان کو حراست میں لے لیا تھا۔






