شارجہ (اسپورٹس ڈیسک) — نیپال کے ہاتھوں ٹی20 سیریز میں تاریخی شکست کے بعد ویسٹ انڈیز کے کپتان عقیل حسین اپنی ٹیم کی کارکردگی پر شدید برہم ہو گئے۔ انہوں نے ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہر کھلاڑی اپنا چہرہ آئینے میں دیکھے اور خود سے سوال کرے: "کیا ہم واقعی انٹرنیشنل سطح کے کھلاڑی ہیں؟”
"یہ انٹرنیشنل کرکٹ ہے، ماضی نہیں” — عقیل حسین
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے عقیل حسین کا کہنا تھا:
"یہ انٹرنیشنل کرکٹ ہے، اگر آپ بینچ مارک بنانا چاہتے ہیں اور اس تک نہیں پہنچ پاتے، تو پھر خود احتسابی ضروری ہے۔ یہ صرف ناموں یا ماضی کی کارکردگی پر انحصار کرنے کا وقت نہیں، دیکھنا ہوگا کہ آج ہم کیا کر رہے ہیں۔”
نیپال کی بلے بازی کی تعریف
عقیل حسین نے نیپالی بیٹرز کی تعریف کرتے ہوئے کہا:
"انہوں نے 174 رنز کا مضبوط ہدف دیا، ہمارے بولرز کو اس سے کم رنز دینے چاہیے تھے۔ پاور پلے میں ہم نے صرف 16 رنز بنائے اور دو وکٹیں گنوا دیں، اس کے بعد حالات مزید مشکل ہو گئے۔”
نیپال کی تاریخ ساز فتح
یہ نیپال کے لیے ایک تاریخی فتح ہے، کیونکہ یہ پہلا موقع ہے جب اس نے کسی آئی سی سی فل ممبر ٹیم کے خلاف دو میچز کی فیصلہ کن برتری کے ساتھ سیریز جیتی ہے۔ شارجہ میں کھیلی جانے والی تین میچز کی سیریز میں نیپال کو 0-2 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل ہو گئی ہے۔
ویسٹ انڈیز کے لیے لمحۂ فکریہ
عقیل حسین کے مطابق، ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں، لیکن اگر کوئی پلان کے مطابق کھیلنے میں ناکام رہے تو انفرادی کارکردگی پر سوالات اٹھنا لازمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"کنڈیشنز کو جلد سمجھنا ضروری ہے، یہ صرف ٹیلنٹ کی بات نہیں، بلکہ ذہانت اور پیشہ ورانہ رویے کی بھی ضرورت ہے۔”
آخری ٹی20 میچ جلد شارجہ میں کھیلا جائے گا، تاہم سیریز پہلے ہی نیپال کے نام ہو چکی ہے، جو کرکٹ کی دنیا میں ایک ابھرتی ہوئی قوت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔






