لاہور (اسپورٹس ڈیسک) – سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صائم ایوب کی جگہ حسن نواز کو ٹیم کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
ایک انٹرویو میں باسط علی نے ٹیم مینجمنٹ پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا:
"ہم نے بیٹنگ کوچ ایسے شخص کو بنا دیا ہے جو پیراشوٹ کے ذریعے آیا، اور جس نے کبھی انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی ہی نہیں۔”
"ایشیا کپ نہیں، براڈکاسٹرز کپ ہو رہا ہے”
باسط علی نے ایشیا کپ 2025 پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا:
"یہ ٹورنامنٹ ایشیا کپ نہیں، براڈ کاسٹرز کپ ہے، جسے براڈکاسٹرز نے ہی کرایا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ:
ٹیم کی مڈل آرڈر مکمل طور پر ناکام ہے
دس اوورز کے بعد رن ریٹ گر جاتا ہے، جو بلے بازوں کی نااہلی کا ثبوت ہے
ٹیم میں ایسے کھلاڑی شامل ہیں "جنہیں صورتحال سنبھالنی نہیں آتی”
کامران اکمل: فائنل میں بھارت سے مقابلہ بڑا امتحان ہو گا
دوسری جانب سابق وکٹ کیپر کامران اکمل نے ایشیا کپ کے تاریخی فائنل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
"پہلی بار ایشیا کپ فائنل میں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے ہوں گے، اور ہم چاہتے ہیں کہ بھارت پاکستان کے خلاف جیت کی ہیٹ ٹرک نہ بنائے۔”
انہوں نے بلے بازوں کو خبردار کیا کہ:
"انہیں اپنی شاٹ سلیکشن پر توجہ دینی ہوگی، کیونکہ فائنل کا پریشر الگ ہوتا ہے، اور بھارت جیسی ٹیم کے خلاف غلطیاں معاف نہیں ہوتیں۔”
سری لنکن بلے باز ناٹ آؤٹ قرار پانے پر بھی تبصرہ
کامران اکمل نے ایک متنازع رن آؤٹ فیصلے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امپائرنگ کے فیصلوں میں تسلسل اور شفافیت ضروری ہے، تاکہ ایسے واقعات سے میچ کی ساکھ متاثر نہ ہو۔
تجزیہ
سابق کرکٹرز کی تنقید ٹیم مینجمنٹ کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب قومی ٹیم ایشیا کپ جیسے بڑے ایونٹ کے فائنل میں بھارت کا سامنا کرنے جا رہی ہے۔






