کرکٹکھیل

بھارت کی اسپورٹس پالیسی میں نرمی: ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف کھیلنے کی وضاحت

نئی دہلی (اسپورٹس ڈیسک) – بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکریٹری دیوجیت سائیکیا نے ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف کھیلنے سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کی شرکت مرکزی حکومت کی پالیسی کے تحت ہوتی ہے، اور اس پالیسی میں کثیرالملکی ایونٹس میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔

"ہمیں وہی کرنا ہوتا ہے جو حکومت طے کرے”

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سائیکیا کا کہنا تھا:
"ہمیں وہی فالو کرنا پڑتا ہے جو مرکزی حکومت طے کرتی ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق بھارت ان کثیرالملکی ٹورنامنٹس میں شرکت کر سکتا ہے جن میں پاکستان جیسے ممالک شریک ہوں، جب تک یہ ایونٹ بین الاقوامی نوعیت کا ہو۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایشیا کپ ایک ملٹی نیشنل ٹورنامنٹ ہے، اس لیے بھارت کی ٹیم اس میں شریک ہوگی اور پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔

پالیسی صرف کرکٹ تک محدود نہیں

بی سی سی آئی کے سیکریٹری نے وضاحت کی کہ یہ پالیسی صرف کرکٹ تک محدود نہیں بلکہ تمام کھیلوں پر لاگو ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت عالمی اسپورٹس ایونٹس میں مخصوص ممالک کے خلاف کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو اس سے فیڈریشنز پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا:
"اگر اتھلیٹکس فیڈریشن پر پابندی لگتی ہے تو نیرج چوپڑا جیسے کھلاڑی عالمی مقابلوں میں شرکت نہیں کر پائیں گے، جو ان کے کیریئر کے لیے نقصان دہ ہوگا۔”

پالیسی کا مقصد: کھلاڑیوں کے مواقع اور ملک کی عالمی ساکھ

دیوجیت سائیکیا کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے یہ پالیسی سوچ سمجھ کر بنائی ہے تاکہ نہ صرف کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر مقابلے کرنے کے مواقع مل سکیں بلکہ ملک کی کھیلوں میں ساکھ بھی برقرار رہے۔ ان کے مطابق:
"یہ پالیسی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ بھارت عالمی منظرنامے پر اپنے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکے اور کھیلوں کی ترقی میں رکاوٹ نہ آئے۔”

پس منظر: بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات

واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی تعلقات میں کشیدگی کے باعث دو طرفہ کرکٹ سیریز کئی سالوں سے معطل ہے، اور دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی یا ایشیا کپ جیسے ٹورنامنٹس میں ایک دوسرے کے خلاف کھیلتی ہیں۔

بی سی سی آئی کی اس وضاحت کو کھیلوں سے متعلق پالیسی میں عملی لچک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد سیاسی مخالفت کو کھیل سے الگ رکھنا اور عالمی ایونٹس میں بھرپور شرکت کو یقینی بنانا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button