صدر ٹرمپ کا بڑا فیصلہ: امریکی محکمہ دفاع کا نام "ڈپارٹمنٹ آف وار” رکھ دیا گیا
واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز ایک اہم اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے امریکی محکمہ دفاع (Pentagon) کا نام باضابطہ طور پر تبدیل کرکے "ڈپارٹمنٹ آف وار” (محکمہ جنگ) رکھ دیا۔ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں دستخط کی تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ چیزوں کو ان کے اصل نام سے پکارا جائے۔”
انہوں نے کہا کہ:
"یہ نیا نام دنیا کو ایک طاقتور پیغام دے گا کہ امریکا کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ عالمی حالات کے پیش نظر ’محکمہ جنگ‘ کا نام زیادہ موزوں اور حقیقت پسندانہ ہے۔”
پیٹ ہیگستھ نئے "سیکرٹری آف وار”
اس موقع پر موجود پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ اب نئے نام کے تحت باضابطہ طور پر "سیکرٹری آف وار” (وزیرِ جنگ) کہلائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ تاریخ میں، خاص طور پر پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران، اسی عنوان کا استعمال کیا جاتا تھا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ پرانی اصطلاحات کو واپس لا کر امریکی قوت کا نیا تاثر دنیا کے سامنے رکھا جائے۔
بین الاقوامی امور پر اظہارِ خیال
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کئی اہم بین الاقوامی معاملات پر بھی گفتگو کی:
روس-یوکرین جنگ
روس اور یوکرین کی جنگ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
"ہم نے ماضی میں 7 بڑی جنگیں رکوا دیں، یوکرین-روس جنگ کو رکوانا مشکل ضرور ہے لیکن ہم اس پر متحرک ہیں۔ مسئلہ اصل میں رویے کا ہے۔”
صدر نے کہا کہ امریکا یوکرین کو سیکیورٹی ضمانت دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے تاکہ اس تنازع کا پُرامن حل نکالا جا سکے۔
غزہ اور اسرائیل تنازع
فلسطین اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ حماس سے سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حماس نے 20 اسرائیلیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، اور کچھ اطلاعات کے مطابق چند یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ نے خبردار کیا:
"اگر حماس نے یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو امریکا سخت اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔”
بھارت اور روسی تیل
بھارت کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا:
"بھارت کی جانب سے روسی تیل کی مسلسل خریداری مایوس کن ہے۔”
انہوں نے اعلان کیا کہ بھارت پر عائد ٹیرف کو دگنا کرتے ہوئے 50 فیصد کر دیا گیا ہے تاکہ امریکی پالیسیوں کو نظر انداز کرنے کے رویے کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
تجزیہ
صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو ماہرین ایک علامتی مگر جارحانہ سفارتی قدم قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد عالمی برادری کو امریکا کے عسکری و سیاسی عزم کا مضبوط پیغام دینا ہے۔ "ڈپارٹمنٹ آف وار” کا عنوان نہ صرف داخلی سطح پر امریکی پالیسی کے نئے رخ کی علامت ہے، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر واشنگٹن کی ممکنہ عسکری حکمت عملیوں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔






