واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی توانائی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ قدم امریکی حکومت کی جانب سے لگائے گئے 50 فیصد ٹیرف کے دباؤ کے بعد اٹھایا گیا، جس سے بھارت کو روسی تیل پر انحصار کم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ذرائع کے مطابق، ریلائنس کے روسی تیل کے سودوں کی مالیت 33 ارب ڈالر سے زائد تھی، اور یہ دس سالہ معاہدہ بھارت کے لیے اہم مالی فائدہ بھی رکھتا تھا، مگر امریکی دباؤ کے بعد کمپنی نے روسی تیل کی درآمد بند کر دی۔
اس فیصلے کے بعد بھارت کو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مشرق وسطیٰ اور امریکہ سے مہنگا تیل خریدنا پڑے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کیا تھا کہ روسی تیل کے معاہدے کے تحت امریکا اور بھارت کے درمیان کسی بھی تجارتی پیش رفت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام بھارت کے لیے ایک اہم اقتصادی اور سیاسی موڑ ہے، اور ظاہر کرتا ہے کہ عالمی پابندیاں کس طرح توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی تعلقات کو متاثر کر رہی ہیں۔






