ممبئی: سابق بھارتی کپتان اور لیجنڈری بلے باز سنیل گواسکر نے ایشیا کپ 2025 میں پاکستان کے خلاف میچز پر بھارتی کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو شدید تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کھلاڑی صرف احکامات پر عمل کرتے ہیں، فیصلے ان کے ہاتھ میں نہیں ہوتے۔”
ایشیا کپ جیسے بڑے ایونٹس میں روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز کا ہمیشہ شائقین کو بےصبری سے انتظار رہتا ہے، لیکن سیاسی ماحول کی وجہ سے کھلاڑیوں کو اکثر غیر ضروری دباؤ اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
"فیصلے حکومت اور بی سی سی آئی کرتی ہے”
سنیل گواسکر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"کھلاڑی حکومت اور بورڈ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ اگر حکومت انہیں کہتی ہے کہ پاکستان کے خلاف کھیلیں، تو وہ کھیلتے ہیں۔ اگر حکومت منع کر دے تو وہ نہیں کھیلتے۔ اس فیصلے میں نہ کھلاڑیوں کا ہاتھ ہوتا ہے، نہ کوچنگ اسٹاف کا۔”
انہوں نے زور دیا کہ قومی کھلاڑیوں پر بلاجواز تنقید نہ کی جائے کیونکہ وہ اپنا فرض نبھاتے ہیں اور سیاسی یا سفارتی معاملات پر ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔
ایشیا کپ 2025: پاک-بھارت مقابلے شائقین کی توجہ کا مرکز
ایشیا کپ 2025 کا آغاز 9 ستمبر سے متحدہ عرب امارات میں ہو رہا ہے، جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلا متوقع ٹاکرا 14 ستمبر کو شیڈول ہے۔ اگر دونوں ٹیمیں سپر فور مرحلے میں کوالیفائی کر لیتی ہیں تو دوسرا میچ 21 ستمبر کو ہوگا، اور فائنل تک رسائی کی صورت میں 28 ستمبر کو تیسرا مقابلہ بھی ممکن ہے۔
اعلان کردہ بھارتی اسکواڈ
بھارتی کرکٹ بورڈ نے ٹورنامنٹ کے لیے اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کا امتزاج شامل ہے:
سوریا کمار یادیو (کپتان)
شبمن گل (نائب کپتان)
ہاردک پانڈیا
جسپریت بمراہ
سنجو سیمسن
ارشدیپ سنگھ
رنکو سنگھ
کلدیپ یادیو
اور دیگر کھلاڑی
کھیل یا سیاست؟ نئی بحث چھڑ گئی
سنیل گواسکر کے بیان نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ ماہرین اور مداحوں کا بھی ماننا ہے کہ کھلاڑیوں کو قومی خدمت کا موقع سمجھ کر ان کے جذبے کو سراہا جانا چاہیے، نہ کہ تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔





