ویب ڈیسک (13 اگست 2025) — پاکستان کرکٹ ٹیم کو ویسٹ انڈیز کے خلاف 34 سال بعد ون ڈے سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس پر سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے ٹیم کی پالیسیوں اور انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ کے بعد شعیب اختر نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ شکست کھلاڑیوں کی کارکردگی کا نہیں بلکہ غلط فیصلوں اور ناقص ٹیم مینجمنٹ کا نتیجہ ہے۔
"50 اوورز میں گزارا نہیں ہوتا، پرفارمنس چاہیے”
شعیب اختر کا کہنا تھا کہ ون ڈے فارمیٹ میں کامیابی کے لیے بیٹنگ، بولنگ اور اسپن سمیت ہر شعبے میں تجربہ کار اور آزمودہ کھلاڑیوں کو شامل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق:
"اگر معیاری آل راؤنڈرز اور پرفارمرز شامل نہیں کیے گئے تو 50 اوورز بھی مکمل کرنا مشکل ہوگا۔ یہاں گزارا نہیں، مستقل مزاجی چاہیے۔”
کوچنگ پر سوال، پالیسی پر اعتراض
سابق اسپیڈ اسٹار نے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا:
"مائیک ہیسن ٹی ٹوئنٹی کوچ کے طور پر بہتر ہیں، لیکن ون ڈے میں ان کا انداز سمجھ سے باہر ہے۔”
انہوں نے اس بات پر بھی نکتہ چینی کی کہ ٹیم مینجمنٹ شکست کے بعد اسے "ری بلڈنگ” کا نام دے کر چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ غلط کمبی نیشنز اور پالیسیوں کی ناکامی ہے۔
"شکر کریں پیٹ کمنز اور مچل اسٹارک نہیں آئے”
شعیب اختر نے اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں مزید کہا:
"شکر کریں پیٹ کمنز اور مچل اسٹارک یہاں نہیں تھے، ورنہ حالات اور بھی زیادہ بے نقاب ہو جاتے۔”
ویسٹ انڈیز کی تاریخی فتح
واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف نومبر 1991 کے بعد پہلی بار کوئی ون ڈے سیریز جیتی ہے۔ 34 سال کے بعد یہ جیت کیریبین ٹیم کے لیے ایک بڑی کامیابی اور پاکستان کے لیے ایک سنگین وارننگ ہے۔





