نئی دہلی:
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کرکٹ کے معروف تجزیہ کار سارو گنگولی نے ایشیا کپ 2025 میں پاک-بھارت مقابلے کی کھلے دل سے حمایت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ کھیل کو سیاست اور دہشت گردی جیسے مسائل سے جدا رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ مقابلے جاری رہنے چاہئیں تاکہ خطے میں امن اور مثبت جذبات کو فروغ ملے۔
بھارتی میڈیا سے بات چیت میں گنگولی نے کہا:
"پہلگام جیسے افسوسناک واقعات نہیں ہونے چاہییں، لیکن کھیل کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت نے دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے، لیکن کھیل کو جاری رکھنا چاہیے تاکہ کرکٹ کا فروغ ہو۔”
ایشیا کپ 2025: گروپس اور مقابلوں کا شیڈول
ہفتے کے روز ایشیا کپ 2025 کا شیڈول جاری کیا گیا، جس کے مطابق گروپ ‘A’ میں پاکستان، بھارت، متحدہ عرب امارات اور عمان شامل ہیں، جبکہ گروپ ‘B’ میں سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان اور ہانگ کانگ موجود ہیں۔
ایشیا کپ کا آغاز 9 ستمبر سے یو اے ای میں ہوگا، اور پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلا گروپ میچ 14 ستمبر کو شیڈول ہے۔ دونوں ٹیمیں مجموعی طور پر کم از کم دو بار اور زیادہ سے زیادہ تین بار آمنے سامنے آ سکتی ہیں۔
سیاسی دباؤ اور مختلف آراء
ایشیا کپ کے شیڈول کے اعلان کے بعد بھارتی میڈیا اور بعض سابق کھلاڑیوں نے پاکستان کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم سارو گنگولی جیسے تجربہ کار کھلاڑی کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کھیل کے ذریعے ہی دوستی اور بھائی چارے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
پاک-بھارت کرکٹ مقابلے: شائقین کی توجہ کا مرکز
پاک-بھارت کرکٹ ہمیشہ سے دنیا کی سب سے دلچسپ اور جذباتی مقابلوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایشیا کپ 2025 میں بھی ان مقابلوں پر دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کی نظریں مرکوز ہیں، جو نہ صرف کھیل کی مسرت کا باعث بنتے ہیں بلکہ خطے میں امن اور بہتر تعلقات کی امید بھی جگاتے ہیں۔





