کرکٹکھیل

ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل غیر یقینی؟ آئی سی سی کی جانب سے ٹیموں کی تعداد محدود کرنے پر غور

دبئی / لندن: ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک ممکنہ انقلابی موڑ سامنے آنے کو ہے، جہاں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے 2027 کے بعد ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیموں کی تعداد محدود کرنے اور فارمیٹ کو دو ڈویژن میں تقسیم کرنے کی تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ اس پس منظر میں پیش کیا جا رہا ہے کہ کئی ممالک میں ٹیسٹ کرکٹ مالی طور پر نقصان دہ بن چکی ہے۔

صرف منافع بخش ٹیمیں کھیل سکیں گی ٹیسٹ کرکٹ؟
ذرائع کے مطابق آئی سی سی کی مجوزہ پالیسی کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ صرف وہی ٹیمیں طویل فارمیٹ کھیلنے کی اہل ہوں گی جو ٹیسٹ کرکٹ سے براہ راست مالی آمدن حاصل کرتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ’’بگ تھری‘‘ یعنی بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کو کوئی خطرہ نہیں، جبکہ نیوزی لینڈ اور پاکستان بھی "محفوظ زون” میں تصور کیے جا رہے ہیں۔

البتہ ویسٹ انڈیز، زمبابوے، آئرلینڈ اور یہاں تک کہ جنوبی افریقہ جیسی روایتی ٹیسٹ ٹیمیں بھی دباؤ میں آ سکتی ہیں، کیونکہ ان کے لیے ٹیسٹ میچز کی میزبانی اکثر نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔

دو ڈویژن کا فارمیٹ زیر غور
آئی سی سی اس تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کو دو ڈویژن میں بانٹ دیا جائے:

ڈویژن 1: مالی طور پر مستحکم اور اعلیٰ درجہ کی ٹیمیں

ڈویژن 2: ابھرتی یا مالی طور پر کمزور ٹیمیں

یہ ماڈل ممکنہ طور پر پروموشن اور ریلیگیشن کے نظام پر مبنی ہو گا، لیکن اس پر حتمی فیصلہ رواں برس کے اختتام پر متوقع ہے۔

آئی سی سی کانفرنس میں عبوری سفارشات تیار
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا، ای سی بی، اور دیگر چھ بورڈز نے آئی سی سی کے نئے سی ای او سنجیو گپتا کے ساتھ مل کر عبوری سفارشات تیار کی ہیں، جو جلد ہی آئی سی سی چیئرمین جے شاہ کو پیش کی جائیں گی۔ یہ سفارشات ممکنہ طور پر 2027 سے شروع ہونے والے نئے فیوچر ٹور پروگرام (FTP) کا حصہ بنیں گی۔

پس منظر: ٹیسٹ کرکٹ کی گرتی مقبولیت
1877 میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان پہلے ٹیسٹ سے لے کر اب تک صرف 12 ممالک کو ٹیسٹ اسٹیٹس ملا ہے۔ اگرچہ ٹیسٹ کو کرکٹ کی سب سے باوقار شکل سمجھا جاتا ہے، مگر ٹی 20 اور ون ڈے فارمیٹس کی بڑھتی مقبولیت نے اس فارمیٹ کو ناظرین، براڈکاسٹرز اور اسپانسرز کی توجہ سے محروم کر دیا ہے۔

🔎 تجزیہ: کرکٹ کا سب سے روایتی فارمیٹ خطرے میں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز حتمی شکل اختیار کرتی ہے، تو ٹیسٹ کرکٹ اپنے بنیادی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کی طرف بڑھ جائے گی۔ یہ فیصلہ جہاں مالی حقیقتوں کو تسلیم کرتا ہے، وہیں روایتی کرکٹ شائقین کے لیے مایوسی کا باعث بن سکتا ہے، جو طویل فارمیٹ کو کرکٹ کی "روح” سمجھتے ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button