ممبئی: سری لنکن کرکٹر کوشل مینڈس کے لیے انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کا تجربہ مایوس کن ثابت ہوا۔ انہوں نے پاکستان سپر لیگ (PSL) کا 10واں ایڈیشن ادھورا چھوڑ کر بھارت میں گجرات ٹائٹنز کو جوائن کیا تھا، تاہم ان کا پہلا ہی میچ ٹیم کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔
مینڈس، جنہیں انگلینڈ کے تجربہ کار کھلاڑی جوز بٹلر کے متبادل کے طور پر اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا، نے ایلیمیٹر میچ میں ممبئی انڈینز کے خلاف دو اہم کیچز ڈراپ کیے، جن میں روہت شرما اور سوریا کمار یادیو شامل تھے۔ دونوں بلے بازوں نے بعد میں میچ کا پانسہ پلٹنے والی اننگز کھیلیں۔
بیٹنگ میں بھی نہ سنبھل سکے
مینڈس کو بیٹنگ کے دوران اپنی فیلڈنگ کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کا موقع ملا، لیکن وہ محض چند رنز کے بعد مچل سینٹنر کی گیند پر ہٹ وکٹ آؤٹ ہو گئے، جس سے ٹیم کی امیدوں کو دھچکا پہنچا۔ نتیجتاً گجرات ٹائٹنز ایونٹ سے باہر ہو گئی۔
PSL سے IPL کا سفر: ایک سبق آموز موڑ؟
واضح رہے کہ کوشل مینڈس PSL 10 میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ تھے لیکن مبینہ طور پر پاک-بھارت کشیدگی اور مالی مفادات کے باعث وہ ٹورنامنٹ چھوڑ کر IPL کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔ تاہم IPL میں یہ موقع خواب کی بجائے ڈراؤنا آغاز ثابت ہوا۔
کھیل میں کارکردگی سب کچھ ہوتی ہے
کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی لیگ یا ٹیم کے ساتھ وابستگی میں صرف مالی فائدہ نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور پیشہ ورانہ وابستگی بھی اہمیت رکھتی ہے۔ کوشل مینڈس کی موجودہ صورتحال تمام کھلاڑیوں کے لیے ایک مثال ہے کہ کارکردگی ہمیشہ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔






