لندن: کرکٹ میں قومی ذمہ داری کو فوقیت دیتے ہوئے انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ECB) نے ایک قابلِ تحسین فیصلہ کیا ہے۔ بورڈ نے واضح اعلان کیا ہے کہ ان کے کھلاڑی اب انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے ناک آؤٹ مرحلے میں شرکت نہیں کریں گے، کیونکہ اسی دوران انگلینڈ کی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف اہم وائٹ بال سیریز میں حصہ لے رہی ہو گی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسٹریلوی کھلاڑیوں نے بھی بھارت میں سیکیورٹی خدشات کے باعث احتیاط برتی ہے۔ انگلینڈ کے فیصلے کو کھلاڑیوں کی حفاظت اور قومی ٹیم کی ترجیح کی روشنی میں ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
قومی کرکٹ کو اولین ترجیح
انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان وائٹ بال سیریز کا آغاز 29 مئی سے ہو رہا ہے، جس میں تین ون ڈے اور تین ٹی20 میچز شامل ہیں۔ یہ سیریز ہیری بروک کی بطور کپتان پہلی ذمہ داری ہوگی، جو نوجوانوں کے لیے ایک نیا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔
آئی پی ایل کے کھلاڑی واپس بُلائے جائیں گے
ون ڈے اسکواڈ میں شامل 5 انگلش کھلاڑیوں کے آئی پی ایل ٹیموں سے معاہدے ہیں، لیکن ECB نے ان کھلاڑیوں کو دوٹوک الفاظ میں بتا دیا ہے کہ وہ نیشنل ڈیوٹی کی وجہ سے باقی ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
جن کھلاڑیوں کی ٹیمیں آئی پی ایل کے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچ سکتی ہیں، ان میں جوز بٹلر، جیکب بیتھل اور ول جیکس شامل ہیں، جب کہ جوفرا آرچر کا سیزن 20 مئی کو مکمل ہو جائے گا۔ جیمی اوورٹن نے پہلے ہی بھارت واپس نہ جانے کا عندیہ دے دیا ہے۔
این او سی کی مدت ختم
بورڈ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کھلاڑیوں کو دی گئی NOC کی مدت فائنل کے اصل شیڈول (25 مئی) تک تھی، اور اب نئے شیڈول کے تحت نئی منظوری کی ضرورت ہو گی، جو دی نہیں جائے گی۔
یہ فیصلہ انگلینڈ کرکٹ کے لیے ایک مثبت اور پیشہ ورانہ رویے کی علامت ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ کھلاڑیوں کو قومی فرائض کو اولین حیثیت دینی چاہیے۔ اس سے نہ صرف ٹیم کو فائدہ ہوگا بلکہ کرکٹ کے کھیل میں توازن اور عزت کا پیغام بھی دیا گیا ہے۔






