امریکا اور اقوام متحدہ نے شام کے صدر اور وزیرِ داخلہ پر عائد پابندیاں ختم کردیں
نیویارک / واشنگٹن: امریکا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے صدر احمد الشراع اور وزیرِ داخلہ انس خطاب پر عائد پابندیاں ہٹا دی ہیں۔
عالمی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ شامی صدر کو دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے منسلک ہونے کے الزام میں لگائی گئی پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی دونوں شامی رہنماؤں کے نام داعش اور القاعدہ کی پابندیوں کی فہرست سے خارج کردیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے امریکا کی پیش کردہ قرارداد کی حمایت کی۔ قرارداد کے حق میں 14 ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں پڑا۔ چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ "شام ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔” ان کے مطابق صدر احمد الشراع اور وزیر داخلہ انس خطاب پر سے پابندیاں ہٹائے جانے سے شامی عوام کو بہتری کے مواقع فراہم ہوں گے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے بھی قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم شام کے لیے ایک نئے آغاز کی حیثیت رکھتا ہے جو ترقی کے مواقع کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی لائے گا، تاہم عالمی برادری کو شام کے استحکام کے لیے مسلسل تعاون جاری رکھنا چاہیے۔






