ٹرمپ کا اعلان: بیرونِ ملک بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ تمام غیر ملکی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کریں گے، جو بیرونِ ملک تیار ہو کر امریکہ میں نمائش کے لیے بھیجی جاتی ہیں۔
یہ اعلان ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹرُوتھ سوشل“ پر ایک پوسٹ میں کیا، جس میں انہوں نے لکھا:
"وہ ایسی تمام فلموں پر ٹیکس لگائیں گے جو امریکا سے باہر تیار کی جائیں گی۔”
ثقافتی صنعتوں پر تحفظاتی پالیسی کا دائرہ
ٹرمپ کا یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اپنی تحفظاتی تجارتی پالیسیوں کا دائرہ صرف صنعت و تجارت تک محدود رکھنے کے بجائے ثقافتی اور تخلیقی شعبوں تک بھی بڑھانا چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ان اسٹوڈیوز کے لیے بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جو بین الاقوامی کو-پروڈکشنز اور عالمی باکس آفس پر انحصار کرتے ہیں۔
قانونی اور عملی پہلو ابھی واضح نہیں
ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ٹرمپ غیر ملکی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے لیے کون سا قانونی اختیار استعمال کریں گے، اور آیا یہ فیصلہ آئندہ صدارتی مدت میں ہی قابلِ عمل ہوگا یا نہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے وضاحت طلب کیے جانے پر وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ اس کے علاوہ امریکی فلم انڈسٹری کے بڑے نام جیسے:
وارنر بروس ڈسکوری
پیرا ماؤنٹ
نیٹ فلکس
کموکاسٹ
نے بھی اس فیصلے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
تجارتی حلقوں اور فلمی دنیا میں ہلچل
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ پالیسی نافذ ہوئی تو اس کے اثرات صرف فلمی صنعت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ بین الاقوامی تجارتی تعلقات اور ثقافتی تبادلوں پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔






