افغان حکومت کا ردعمل: غیر ملکی فوجی اڈوں کے خلاف علاقائی مؤقف کا خیر مقدم
کابل / ویب ڈیسک — افغانستان کی عبوری حکومت نے پاکستان، چین، ایران اور روس کے وزرائے خارجہ اجلاس میں افغانستان میں کسی بھی غیر ملکی فوجی اڈے کے قیام کی مخالفت کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔
ترجمان افغان عبوری حکومت حمد اللہ فطرت نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان ان چاروں ممالک کے مؤقف کو سراہتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
"افغانستان کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں”
حمد اللہ فطرت نے اس تاثر کو رد کیا کہ افغانستان کی سرزمین سے خطے کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ ان کا کہنا تھا:
"افغانستان میں کسی مسلح گروہ کو سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ بات بے بنیاد ہے کہ افغانستان سے کسی ملک کو خطرہ ہو سکتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ افغان حکومت بدعنوانی، منشیات اور ہر قسم کے ناپسندیدہ عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
خطے سے مثبت روابط کی خواہش
افغان ترجمان کے مطابق افغانستان تمام ہمسایہ اور علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو باہمی احترام، اعتماد اور دوستانہ روابط کی بنیاد پر فروغ دینا چاہتا ہے۔
"کابل کی پالیسی باہمی اعتماد، مثبت روابط اور دوستانہ تعلقات کے فروغ پر مبنی ہے۔”
علاقائی حمایت سے روابط مستحکم کرنے کا موقع
حمد اللہ فطرت نے مزید کہا کہ:
"سیاسی ماہرین کے مطابق، علاقائی ممالک کی افغانستان کے استحکام کی حمایت ایک موقع ہے جس کے ذریعے افغانستان اپنے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنا سکتا ہے۔”
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ افغانستان کا ہمسایہ ممالک کے خدشات کا مثبت جواب دینا اعتماد سازی میں مددگار ثابت ہوگا۔
پس منظر:
حال ہی میں پاکستان، چین، ایران اور روس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں افغانستان میں کسی غیر ملکی فوجی موجودگی کے خلاف مشترکہ مؤقف اپنایا گیا تھا، جس پر اب افغان عبوری حکومت نے سرکاری ردعمل دیا ہے۔






