دنیا

چین میں انسانی ناخن کی مانگ میں اضافہ، ادویات سازی کے لیے استعمال، قیمت 150 یوان فی کلو تک پہنچ گئی

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) – چین میں وہ چیز جو کبھی کچرا سمجھی جاتی تھی، اب قیمتی دوا بن گئی ہے۔ انسانی ناخن اب چینی ادویہ ساز کمپنیوں کے لیے قیمتی خام مال بن چکے ہیں، اور مارکیٹ میں ان کی قیمت 150 یوان فی کلوگرام (تقریباً 5775 پاکستانی روپے) تک پہنچ گئی ہے۔

چینی روایتی طب کے ماہرین کے مطابق انسانی ناخن بعض بچوں کی بیماریوں جیسے پیٹ پھولنا اور ٹانسلز کے علاج میں مفید سمجھے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے دوا ساز ادارے اسکولوں اور دیہی علاقوں سے ناخن خرید رہے ہیں، جہاں سے یہ مواد مناسب صفائی، خشک کرنے اور پاؤڈر کی شکل میں تیار کر کے مختلف دواؤں میں شامل کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بالغ شخص سالانہ اوسطاً صرف 100 گرام ناخن اگاتا ہے، اس لیے مطلوبہ مقدار جمع کرنا مشکل ہوتا ہے اور یہی اس کی بلند قیمت کی ایک بڑی وجہ ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق صوبہ ہیبی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے اپنے بچپن سے جمع کیے گئے ناخن آن لائن فروخت کر دیے، جنہیں 150 یوان فی کلو کے حساب سے خریدا گیا۔

مزید برآں، دوا ساز کمپنیوں نے واضح کیا ہے کہ صرف ہاتھوں کے ناخن قبول کیے جاتے ہیں، پاؤں کے ناخن ناقابلِ قبول ہیں، اور خریداری کے وقت ناخن کی صفائی اور معیار کی سخت جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو 1960 کی دہائی میں انسانی ناخن کا بطور دوا استعمال کم ہو گیا تھا، کیونکہ نیل پالش اور دیگر کیمیکل استعمال کی وجہ سے ناخن آلودہ ہونے لگے تھے۔ بعد ازاں دیگر متبادل اجزاء سامنے آئے، تاہم انسانی ناخن کبھی مکمل طور پر دوا سازی سے خارج نہیں ہوئے۔ اب ایک بار پھر ان کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button