یمن پر اسرائیلی فضائی حملے، صنعا اور الجوف میں 35 افراد شہید، 130 زخمی
صنعا یمن کے دارالحکومت صنعااور الجوف گورنریٹ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم **35 افراد شہید** اور **130 سے زائد زخمی** ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق حملوں کا نشانہ **رہائشی علاقے** اور ایک **طبی مرکز** بھی بنا، جس سے عام شہری بڑی تعداد میں متاثر ہوئے۔
وزارت صحت یمن نے تصدیق کی ہے کہ شہداء اور زخمیوں میں اکثریت بے گناہ شہریوں کی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیل کا دعویٰ اور حوثی موقف
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نشانہ صرف **حوثی حکومت کے فوجی اہداف** تھے۔ تاہم **حوثی قیادت** نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل یہ حملے انہیں غزہ کی حمایت ترک کرنے پر مجبور** کرنے کے لیے کر رہا ہے۔
حوثی حکام کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کے ساتھ یکجہتی** میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔
خطے میں کشیدگی کی نئی لہر
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایک روز قبل ہی اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، جس پر شدید عالمی ردعمل سامنے آیا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں **یمن کے وزیراعظم احمد الرحوی شہید ہو چکے ہیں، جس کے بعد حوثیوں نے اسرائیلی مفادات کے خلاف حملے تیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اسرائیل کے علاقائی حملوں میں تیزی
ذرائع کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران اسرائیل کی جانب سے **فلسطین، لبنان، شام، تیونس، قطر اور یمن پر حملے کیے گئے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نئی انتہاؤں کو پہنچ گئی ہے۔






