شمالی کوریا کا دو نئے فضائی دفاعی میزائلوں کا کامیاب تجربہ کم جونگ اُن نے خود نگرانی کی، خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
پیونگ یانگ (بین الاقوامی نیوز ڈیسک) — شمالی کوریا نے دو جدید فضائی دفاعی میزائلوں کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جن کی نگرانی خود ملک کے سربراہ کم جونگ اُن نے کی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق یہ نئے میزائل "جدید، منفرد اور اعلیٰ جنگی صلاحیت” سے لیس ہیں، جو ہر طرح کے فضائی خطرات کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جدید اہداف کو تباہ کرنے کی مکمل صلاحیت
بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان میزائلوں کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ ڈرونز، کروز میزائلز اور دیگر پیچیدہ فضائی حملوں کو بھی روک سکتے ہیں۔
تاہم، شمالی کوریا نے اب تک ان میزائلوں کی رینج یا تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
کشیدگی میں اضافہ: DMZ واقعے کے فوری بعد تجربہ
میزائل تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے تقریباً 30 فوجی غلطی سے غیر فوجی علاقہ (DMZ) میں داخل ہو گئے تھے، جنہیں جنوبی کوریا کی جانب سے وارننگ شاٹس کے ذریعے واپس دھکیل دیا گیا۔
اس واقعے کے صرف چند گھنٹوں بعد شمالی کوریا نے میزائل تجربہ کر کے مزید تناؤ کو جنم دیا ہے۔
امریکی-جنوبی کوریا فوجی مشقیں
اس وقت خطے میں امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں جاری ہیں، جنہیں پیونگ یانگ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔
شمالی کوریا ان مشقوں کو اکثر "اشتعال انگیز” قرار دیتا رہا ہے، اور انہی کے تناظر میں اپنے فوجی اقدامات کو "دفاعی حکمت عملی” قرار دیتا ہے۔
سفارتی محاذ پر سرگرمیاں
اگلے ہفتے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جنوبی کوریا کے نو منتخب صدر لی جے میونگ کی اہم ملاقات طے ہے۔
اس ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی، شمالی کوریا کے حالیہ اقدامات اور سفارتی حل پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
عالمی تجزیہ: "پیغام واضح ہے”
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ میزائل تجربہ ایک واضح پیغام ہے کہ شمالی کوریا عسکری طور پر پیچھے ہٹنے کے بجائے جارحانہ حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ مزید فوجی ردعمل اور دباؤ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
تبصرہ:
شمالی کوریا کے میزائل پروگرام پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ موجودہ حالات میں ہر نیا تجربہ نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔






