آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد مودی سرکار کا جنگی جنون: 97 مزید تیجس طیاروں کا مہنگا دفاعی منصوبہ
نئی دہلی/اسلام آباد (21 اگست 2025) – آپریشن سندور میں رافیل طیاروں کی کارکردگی اور میدانِ جنگ میں واضح ناکامی کے بعد بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت نے ایک نیا جنگی دفاعی منصوبہ متعارف کر دیا ہے، جس کے تحت 97 مزید ملکی ساختہ تیجس مارک 1A طیارے بھارتی فضائیہ میں شامل کیے جائیں گے۔
بھارتی اخبار اکنامک ٹائمز کے مطابق، اس نئے دفاعی معاہدے کی مالیت تقریباً 62 ہزار کروڑ روپے (تقریباً 7.4 ارب امریکی ڈالر) ہے، جس کے بعد تیجس طیاروں کی مجموعی تعداد 180 ہو جائے گی۔
پس منظر: ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دراصل بھارتی حکومت کی جانب سے آپریشن سندور میں ناکامی اور رافیل طیاروں کی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ کئی دفاعی مبصرین کے مطابق، مودی سرکار اب داخلی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے جارحانہ دفاعی پالیسی کو بڑھاوا دے رہی ہے، جو خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
تیجس: کامیابی یا ناکامی کا نشان؟
بھارتی دفاعی ادارہ ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ (HAL) تیجس مارک 1A کے ساتھ ساتھ مارک 2 اور پانچویں جنریشن کے طیاروں کی تیاری میں بھی مصروف ہے، مگر ماضی میں تیجس کے متعدد تکنیکی اور آپریشنل مسائل پر شدید تنقید کی جا چکی ہے۔ کئی رپورٹس کے مطابق تیجس کی کارکردگی بین الاقوامی سطح پر اعتماد کے قابل نہیں سمجھی جاتی۔
نئی اسلحہ دوڑ کا خدشہ
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارت کا یہ حالیہ اقدام جنوبی ایشیا میں اسلحہ کی نئی دوڑ کو جنم دے سکتا ہے۔ ایک طرف بھارت اپنی دفاعی سرمایہ کاری میں بے تحاشا اضافہ کر رہا ہے، دوسری طرف یہ حکمت عملی خطے کے توازن کو بگاڑنے اور پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کو جواب دینے پر مجبور کرنے کا موجب بن سکتی ہے۔
دفاعی اخراجات میں بے قابو اضافہ
رپورٹ کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں بھارت کی دفاعی حصول کونسل (DAC) نے 1.6 لاکھ کروڑ روپے کے مختلف عسکری منصوبوں کی منظوری دی ہے، جن میں ہیلی کاپٹروں کی خریداری، موجودہ لڑاکا طیاروں کی اپ گریڈیشن اور نئے ہتھیاروں کی تیاری شامل ہے۔
تجزیہ: دفاع یا سیاسی اسٹیج؟
ماہرین کا ماننا ہے کہ مودی سرکار کی موجودہ دفاعی پالیسیاں حقیقی سیکیورٹی ضروریات کے بجائے سیاسی مقاصد اور عوامی تاثر کے گرد گھومتی ہیں۔ تیجس طیاروں کی بھاری سرمایہ کاری، غیر آزمودہ کارکردگی اور وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے تکنیکی مسائل، بھارت کی دفاعی خود انحصاری کے دعوؤں کو مشکوک بنا دیتے ہیں۔
نتیجہ: جنوبی ایشیا میں خطرناک رجحان
مودی حکومت کے یہ اقدامات نہ صرف بھارت کے اندرونی سیاسی مقاصد کو تقویت دے رہے ہیں بلکہ پورے خطے کو ایک غیر مستحکم سیکورٹی ماحول کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ امن کے خواہاں حلقے ان پالیسیوں کو جارحانہ، مہنگی اور غیر دانشمندانہ قرار دے رہے ہیں، جو خطے میں مستقل کشیدگی اور اسلحہ کی نئی دوڑ کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔






