ای تھری گروپ کا اقوامِ متحدہ کو خط: ایران سے جوہری مذاکرات فوری بحال کرنے کا مطالبہ
نیویارک (13 اگست 2025) — فرانس، جرمنی اور برطانیہ پر مشتمل یورپی گروپ ای تھری (E3) نے اقوامِ متحدہ کو ایک سخت لہجے میں خط لکھ کر ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں عالمی مذاکرات کی معطلی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور متنبہ کیا گیا ہے کہ اگست کے اختتام تک مذاکرات میں واپسی نہ ہونے کی صورت میں سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
"اسنیپ بیک میکنزم” متحرک کرنے کا اشارہ
ای تھری گروپ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران نے جوہری معاہدے (JCPOA) کو بچانے کے لیے سنجیدہ پیش رفت نہ کی تو وہ "اسنیپ بیک میکنزم” کو فعال کرنے پر غور کریں گے، جس کے تحت اقوامِ متحدہ کی سابقہ پابندیاں خودکار طریقے سے بحال ہو سکتی ہیں۔
مذاکرات میں تعطل اور اس کے اثرات
مغربی طاقتوں کے مطابق ایران نے حالیہ مہینوں میں یورینیم کی افزودگی اور دیگر سرگرمیوں میں تیزی لائی ہے، جو عالمی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مذاکرات کی معطلی نہ صرف خطے میں تناؤ بڑھا رہی ہے بلکہ عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔
آخری سفارتی موقع
ای تھری گروپ کا یہ خط سفارتی حل کے لیے آخری موقع تصور کیا جا رہا ہے۔ یورپی ممالک عالمی برادری پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران کو بات چیت کی میز پر واپس لانے کے لیے متحد ہو جائیں تاکہ جوہری معاہدے کو بچایا جا سکے اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو۔
پس منظر
ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 میں ہونے والا جوہری معاہدہ (JCPOA) سابق امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں ختم ہو گیا تھا، مگر یورپی ممالک کی کوشش رہی ہے کہ اسے دوبارہ بحال کیا جائے۔ تاہم، حالیہ تعطل اور ایران کی مبینہ خلاف ورزیاں اس عمل کو مزید مشکل بنا رہی ہیں۔






