لاہور: کرکٹ کے بعد اب ہاکی بھی بھارتی تعصب کا نشانہ بننے لگی۔ حالیہ دنوں میں پاکستان ہاکی ٹیم کو بھارت میں جاری سوشل میڈیا مہم کے ذریعے کھلم کھلا دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس پر پاکستان کے ہاکی اولمپئنز نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایشیا کپ کو کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی میڈیا اور انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پاکستان ہاکی ٹیم کے خلاف نفرت انگیز مواد اور تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں، جن میں کھلاڑیوں کو دھمکایا جا رہا ہے۔ اس ماحول میں پاکستانی ٹیم کی سیکیورٹی اور کھیل کی روح کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھارتی میڈیا نے یہ خبر دی تھی کہ پاکستان ہاکی ٹیم کو بھارت میں ہونے والے ایشیا کپ میں شرکت کی اجازت دے دی گئی ہے، تاہم اب بھارتی حلقوں میں اس فیصلے پر تنقید اور مخالفت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
پاکستان کے ہاکی اولمپئنز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کھیل کو سیاست سے بالاتر رکھا جانا چاہیے اور اگر بھارت میں پاکستانی کھلاڑیوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا تو مقابلے کسی غیر جانبدار مقام پر منعقد کیے جائیں، بالکل اسی طرح جیسے کرکٹ کے معاملے میں نیوٹرل وینیو کا اصول اپنایا گیا ہے۔
ایشیا کپ ہاکی 27 اگست سے بھارتی ریاست بہار کے شہر راجگیر میں شیڈول ہے، اور موجودہ حالات میں ایونٹ کے پرامن اور کھیلوں کے جذبے کے مطابق انعقاد پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا مطالبہ نہ صرف جائز ہے بلکہ خطے میں کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی اداروں کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔






