لندن (ہیلتھ رپورٹر) — یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (UKHSA) نے تصدیق کی ہے کہ پہلی مرتبہ برطانیہ میں مچھروں میں ویسٹ نیل وائرس کی موجودگی کا پتہ چلا ہے، تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ عوام کے لیے خطرے کی سطح بہت کم ہے اور اس وقت تک انسانوں میں منتقلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
یہ وائرس نوٹنگھم شائر میں مچھروں کی نگرانی کے قومی پروگرام کے تحت جولائی 2023 میں جمع کیے گئے ایڈیس ویکسینز نسل کے مچھروں میں دریافت ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک احتیاطی دریافت ہے جو مستقبل میں ممکنہ خطرات کی پیشگی نگرانی کا حصہ ہے۔
وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق معلومات
ویسٹ نیل وائرس عمومی طور پر پرندوں میں گردش کرتا ہے اور کم ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اگر منتقل ہو بھی جائے تو اکثر متاثرین کو کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ کچھ افراد کو ہلکی فلو جیسی علامات ہو سکتی ہیں، اور انتہائی نایاب صورتوں میں اعصابی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ویکٹر (یعنی بیماری پھیلانے والے کیڑوں) کے شمال کی طرف پھیلاؤ پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، اور یہ دریافت اسی تحقیق کا حصہ ہے۔
برطانیہ میں کوئی انسانی کیس رپورٹ نہیں
ابھی تک برطانیہ میں ویسٹ نیل وائرس کا کوئی کیس انسان یا گھوڑے میں رپورٹ نہیں ہوا۔ تاہم، احتیاطی طور پر مچھر کنٹرول پروگرام اور وائرس کی نگرانی کی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے قبل از وقت نمٹا جا سکے۔
UKHSA کے ترجمان نے بتایا:
"یہ دریافت کسی خطرے کی علامت نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانیہ میں صحت کی ایجنسیاں مسلسل چوکس اور فعال ہیں۔ عوام کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ مچھر کے کاٹنے سے بچاؤ کے عام احتیاطی اقدامات کافی ہیں۔”
محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر:
کھلے جسم کو ڈھانپنے والے کپڑے پہنیں
مچھر بھگانے والی کریم استعمال کریں
پانی کھڑا نہ ہونے دیں، کیونکہ مچھر اس میں انڈے دیتے ہیں
یہ قدم برطانیہ میں وبائی امراض کی بروقت شناخت اور روک تھام کے لیے صحت کے نظام کی فعال تیاری کا مظہر ہے، جس سے عوام کو اعتماد اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔






