اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

بھارت نے حملہ کیا تو کھلی جنگ ہوگی، وزیر دفاع

وزیر دفاع خواجہ آصف کا عالمی برداری کو انتباہ: بھارت کی طرف سے حملے کی صورت میں مکمل جنگ ہوگی

وزیر دفاع خواجہ آصف نے عالمی برداری کو خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو یہ صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ "دو جوہری طاقتوں کے درمیان تصادم ہمیشہ تشویش ناک ہوتا ہے، اور پاکستان نہ صرف مکمل طور پر تیار ہے، بلکہ دو سو فیصد تیار ہے۔” وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کسی بھی ایڈونچر کا انجام بہت خطرناک ہوگا، اور اگر بھارت نے کوئی حملہ کیا تو پاکستان ویسا ہی جواب دے گا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ "ہمیں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیاری ہے، اور اگر جنگ کی حالت پیدا ہوئی تو ہم اس کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کے تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، مگر اگر بھارت نے حملہ کیا تو پاکستان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہوگا۔

سندھ طاس معاہدہ اور ورلڈ بینک کا کردار

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے حوالے سے عالمی سطح پر ورلڈ بینک کے پاس جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بھارت کے بے بنیاد الزامات اور غیر منطقی اقدامات پر سخت ردعمل دیا۔

پہلگام واقعہ: خواجہ آصف کا ردعمل

خواجہ آصف نے بھارت کے پہلگام واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اس حملے کو بھارت کا فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور ان کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔

صدر آصف زرداری کا ردعمل

صدر مملکت آصف زرداری نے بھی بھارت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ "پہلگام واقعے کے بعد بھارت کے غیر منطقی اقدامات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔”

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار

وزیر دفاع خواجہ آصف سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بحران کو حل کرنے میں مدد کریں گے، تو انہوں نے کہا کہ "ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کی واحد عالمی طاقت کے سربراہ ہیں اور وہ عالمی سطح پر مختلف فلیش پوائنٹس پر بات کر رہے ہیں۔ ان کا کردار اس بحران میں اہم ہو سکتا ہے۔”

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دنیا کو دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان ممکنہ جنگ کے خطرات سے آگاہ ہونا چاہیے اور عالمی برادری کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ خطے میں مزید تشویش اور تباہی سے بچا جا سکے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button