ایک سال میں 2 رمضان المبارک اور 2 عیدالفطر کب ہوں گی؟
دنیا بھر کے مسلمان عام طور پر سال میں ایک مرتبہ ماہِ رمضان کا استقبال اور ایک ہی بار عیدالفطر مناتے ہیں، تاہم ہر 32 یا 33 برس بعد ایک غیر معمولی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے جب یہ مقدس مہینہ اور اسلامی تہوار ایک ہی عیسوی سال میں دو مرتبہ آ جاتے ہیں۔
اس وقت دنیا بھر کے مسلمان رمضان المبارک کی آمد کے منتظر ہیں، جس میں اب ڈیڑھ ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے۔ عام حالات میں رمضان سال میں ایک بار آتا ہے اور اسی کے اختتام پر عیدالفطر منائی جاتی ہے، مگر اسلامی قمری کیلنڈر اور عیسوی گریگورین کیلنڈر کے فرق کے باعث ہر چند دہائیوں بعد یہ منفرد موقع سامنے آتا ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق صرف تین سال بعد، یعنی 2030 میں، دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی عیسوی سال میں دو مرتبہ ماہِ رمضان کا استقبال کریں گے۔ اسی طرح 2033 میں مسلمان عیدالفطر بھی ایک سال میں دو بار منائیں گے۔
ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عیسوی کیلنڈر کا ایک سال 365 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ ہر چوتھے سال لیپ ایئر کے باعث یہ مدت 366 دن ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس اسلامی قمری کیلنڈر کے مطابق ایک سال عموماً 354 یا 355 دن کا ہوتا ہے، جو عیسوی سال سے تقریباً 10 سے 11 دن کم ہے۔
اسی فرق کے باعث رمضان اور عید ہر سال عیسوی کیلنڈر میں آگے سرکتے رہتے ہیں اور بالآخر 32 یا 33 برس بعد پورا ایک سال کا فرق پیدا ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ہی عیسوی سال میں دو بار رمضان یا عید آ جاتی ہے۔
ماضی میں آخری بار یہ منفرد صورتِ حال 1997 میں پیش آئی تھی، جب ایک ہی سال میں دو مرتبہ رمضان المبارک آیا، جبکہ 2000 میں مسلمانوں نے دو بار عیدالفطر منائی تھی۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق 2030 میں رمضان المبارک کا پہلا آغاز ممکنہ طور پر 5 جنوری کو ہوگا، جبکہ اسی سال دوسرا رمضان تقریباً 26 دسمبر سے شروع ہو سکتا ہے۔ جنوری میں رمضان 29 یا 30 روز پر مشتمل ہوگا، جبکہ دسمبر میں تقریباً 6 روزے رکھے جائیں گے، یوں مجموعی طور پر اس سال 35 یا 36 روزے ہوں گے۔
اسی طرح 2033 میں عیدالفطر پہلی بار ممکنہ طور پر 2 یا 3 جنوری کو اور دوسری بار 23 یا 24 دسمبر کو منائی جا سکتی ہے۔
ادھر رواں برس رمضان المبارک کے آغاز کا امکان 17 یا 18 فروری کے درمیان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ہر ملک میں رمضان کے آغاز کا حتمی اعلان مقامی رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ اگرچہ فلکیاتی حسابات کے ذریعے رمضان کے آغاز کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، مگر اس کی حتمی تاریخ کا تعین چاند کی رویت سے ہی کیا جاتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب سمیت کئی اسلامی ممالک میں انسانی مشاہدے پر انحصار کیا جاتا ہے، جبکہ بعض ممالک سائنسی طریقۂ کار کو بنیاد بناتے ہیں۔






