اہم خبریںپاکستانتازہ ترینصحتلمحہ با لمحہ

2026 میں کون سے پرانے وائرس نئی شکل میں خطرہ بن سکتے ہیں؟

سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی عالمی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں دنیا کو صحت کے بڑے خطرات کسی نئے وائرس سے نہیں بلکہ پرانے وائرسوں کی زیادہ طاقتور اور بدلی ہوئی اقسام سے لاحق ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، بین الاقوامی سفر میں تیزی اور انسانوں و جانوروں کے درمیان بڑھتا ہوا قریبی رابطہ ان وائرسوں کے دوبارہ ابھرنے کی اہم وجوہات ہیں۔ متعدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا اس وقت اچانک وبائی پھیلاؤ کے خطرے سے پہلے سے کہیں زیادہ دوچار ہے، جبکہ کئی ممالک میں بیماریوں کی نگرانی اور ہنگامی ردِعمل کے نظام اب بھی کمزور ہیں۔

انفلوئنزا اے: سب سے بڑا خطرہ

ماہرین کی فہرست میں انفلوئنزا اے وائرس کو سب سے زیادہ تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں تیزی سے جینیاتی تبدیلی کی غیر معمولی صلاحیت پائی جاتی ہے اور یہ مختلف جانداروں کو متاثر کر سکتا ہے۔ 2009 کی سوائن فلو وبا کی مثال دی جا رہی ہے، جس میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

خصوصی طور پر برڈ فلو کی نئی اقسام پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ حالیہ تحقیق میں اس کے پرندوں سے ممالیہ جانوروں اور بعض ممالک میں گائے تک منتقل ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ وائرس انسانوں میں مؤثر منتقلی کے قابل ہو گیا تو ایک نئی عالمی وبا جنم لے سکتی ہے، جبکہ موجودہ موسمی ویکسینز اس کے خلاف مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتیں۔

ایم پوکس: علاقائی بیماری سے عالمی مسئلہ

ایم پوکس وائرس، جسے پہلے منکی پاکس کہا جاتا تھا، اب صرف افریقہ کے مخصوص علاقوں تک محدود نہیں رہا۔ 2022 میں عالمی پھیلاؤ کے بعد یہ وائرس کئی ممالک میں مستقل طور پر موجود ہے اور انسان سے انسان میں منتقلی کے کیسز بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔

اگرچہ مجموعی کیسز میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم بعض علاقوں میں اس کی زیادہ شدید اقسام سامنے آ رہی ہیں۔ بغیر کسی سفری تاریخ کے نئے کیسز کا سامنے آنا اس بات کا عندیہ ہے کہ 2026 میں اس وائرس کی نئی لہریں جنم لے سکتی ہیں۔

اوروپوشی وائرس: مچھروں کے ذریعے پھیلنے والا خطرہ

کم شہرت رکھنے والا لیکن تیزی سے پھیلنے والا اوروپوشی وائرس بھی ماہرین کی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ یہ وائرس مچھروں اور دیگر چھوٹے حشرات کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جن پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے۔

عام طور پر اس کی علامات بخار، سر درد اور جسمانی درد تک محدود رہتی ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں اس کا دائرہ لاطینی امریکا اور کیریبین کے کئی حصوں تک پھیل چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس وائرس کو مزید نئے علاقوں تک لے جا سکتی ہے۔

دیگر ممکنہ صحت کے خطرات

ماہرین نے بعض دیگر بیماریوں کے دوبارہ سر اٹھانے کی بھی نشاندہی کی ہے، جن میں مختلف خطوں میں چکن گونیا کا مسلسل پھیلاؤ، ویکسینیشن کی شرح کم ہونے کے باعث خسرہ کی واپسی، اور بعض ممالک میں صحت کے پروگرام متاثر ہونے سے ایچ آئی وی کے کیسز میں ممکنہ اضافہ شامل ہے۔

عالمی اداروں اور ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وباؤں سے نمٹنے کے لیے بروقت تیاری، مضبوط ویکسینیشن نظام اور جدید نگرانی کے طریقۂ کار ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کی باہم جڑی دنیا میں بیماریوں سے بچاؤ کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے، کیونکہ وائرس بھی اب اتنی ہی تیزی سے سرحدیں عبور کرتے ہیں جتنی تیزی سے انسان۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button