افغان جریدے آمو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم نے حراست کے قوانین میں سخت تبدیلیاں متعارف کرادی ہیں، جن کے تحت مشتبہ افراد کو عدالت کے حکم کے بغیر طویل عرصے تک قید میں رکھا جا سکے گا۔
نئے فرمان کے مطابق مشتبہ افراد کی حراست کی مدت 72 گھنٹوں سے بڑھا کر 10 دن کر دی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت قیدیوں کو عدالت کے حکم کے بغیر رہائی کا حق حاصل نہیں رہے گا اور حراستی اختیارات مکمل طور پر افغان سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ سابقہ قوانین کو ختم کرتے ہوئے رہائی کا اختیار صرف افغان طالبان کی عدالتوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ فرمان منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے اور بے گناہ افراد کو مہینوں قید میں رکھنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام انصاف کے عالمی اصولوں کے منافی ہے۔
اقوام متحدہ نے بھی 2021 کے بعد افغان طالبان کی جانب سے کی جانے والی متعدد گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی سخت گیر پالیسیاں افغانستان کو بتدریج ایک کھلی جیل میں تبدیل کر رہی ہیں اور یہ فیصلے انسانی حقوق کے لیے شدید دھچکا ہیں۔






