اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایمان مزاری کو ’باریک وارداتیا‘ قرار دے دیا

اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک اہم پریس کانفرنس میں ملک کی سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف گزشتہ سال کیے گئے اقدامات کا جامع جائزہ پیش کرنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور اس جنگ میں ریاست اور عوام کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس وقت دہشت گردی پاکستان کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام توجہ اسی مسئلے پر مرکوز رکھی جائے۔

پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں تو کچھ عناصر ان کی حمایت میں سامنے آ جاتے ہیں۔ انہوں نے ایسے عناصر کو ’’باریک وارداتیے‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ایک ناروے میں مقیم ہے، جبکہ ایمان مزاری خود کو ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ کہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک پروفیسر عثمان قاضی کی دہشت گردی سے متعلق سوشل میڈیا پر بیانیہ بنایا گیا اور ان تمام سرگرمیوں کی ڈوریاں بیرون ملک سے ہلائی جا رہی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے مساجد میں کتے باندھنے سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی باتیں مضحکہ خیز ہیں۔ ان کے مطابق جب کسی کے پاس ٹھوس دلیل یا منطقی مؤقف نہ ہو تو پھر اس قسم کی بے سروپا گفتگو کی جاتی ہے، جس کا نہ کوئی سر ہوتا ہے اور نہ پیر۔

انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف بیانیے کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور قومی سلامتی کے معاملے پر یکجہتی ناگزیر ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button