اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نے وینزویلا میں امریکی کارروائی کے دفاع میں کہا کہ نکولس مادورو غیرقانونی صدر ہیں اور وہ منشیات امریکہ پہنچا رہے تھے۔ ان کا یہ بیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پیش کیا گیا، جس کا مقصد وینزویلا میں بڑھتی کشیدگی اور امریکی کارروائی پر تبادلہ خیال تھا۔
وینزویلا کے مندوب نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر مادورو کو جس طرح سے ہٹایا گیا، وہ غیرقانونی ہے اور اس سے ملک میں سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ روس نے بھی امریکی کارروائی کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس قسم کی یکطرفہ کارروائیاں عالمی امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔
چین نے بھی اس معاملے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے امریکہ سے عالمی قوانین کی پاسداری کرنے اور صدر مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ چینی مندوب کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق اور خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔
یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی پاسداری کی جانی چاہیے تاکہ عالمی امن و استحکام برقرار رہے۔
پاکستان کے مندوب عثمان جدون نے وینزویلا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یکطرفہ فوجی کارروائیاں یو این چارٹر کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ وینزویلا کے معاملے میں مداخلت کرنے سے گریز کرے اور اس مسئلے کو امن کے ذریعے حل کیا جائے۔
یہ اجلاس وینزویلا کی سیاسی صورتحال پر عالمی برادری کی تشویش اور اختلافات کو نمایاں کرتا ہے، جس میں کئی ممالک نے امریکی کارروائی کو غیر قانونی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔






