کیف:
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ روس کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق امن معاہدہ تقریباً 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور دونوں فریقین معاہدے سے صرف 10 فیصد دوری پر ہیں۔
نئے سال کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، تاہم ملک کے وجود، خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن یوکرین کی اولین خواہش ہے لیکن یہ امن مضبوط بنیادوں پر ہونا چاہیے۔
صدر زیلنسکی نے واضح کیا کہ کسی بھی امن معاہدے کے لیے مضبوط اور مؤثر سکیورٹی ضمانتیں ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل میں روس دوبارہ یوکرین پر حملہ نہ کر سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سکیورٹی ضمانتیں کمزور ہوئیں تو امن معاہدہ دیرپا ثابت نہیں ہوگا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امن مذاکرات میں سب سے بڑا اختلاف علاقائی کنٹرول کے معاملے پر ہے۔ اس وقت روسی افواج یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہیں، جبکہ روس معاہدے کے تحت مشرقی یوکرین کے ڈونباس خطے پر مکمل کنٹرول کا مطالبہ کر رہا ہے۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ معاہدے کے چند اہم اور حساس نکات پر اب بھی بات چیت جاری ہے اور حتمی فیصلے تک پہنچنے کے لیے مزید سفارتی کوششوں اور بین الاقوامی حمایت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2026 یوکرین کے لیے امن، استحکام اور بحالی کا سال ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ معاہدہ انصاف اور سلامتی کی بنیاد پر طے پائے۔






