اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں تو بات چیت تین اہم نکات — کشمیر، دہشتگردی اور پانی — پر مرکوز ہوگی۔
اپنے بیان میں وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا حامی رہا ہے اور اب دونوں ممالک کے پاس اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے ایک سنہری موقع موجود ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دہشتگردی پچھلے 20 سے 30 سال سے جاری ہے، اور پاکستان اس کا سب سے بڑا شکار ہے، اس کے باوجود ہم پر الزام لگا کر حملے کیے جاتے ہیں، جو کہ ایک بڑی ستم ظریفی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں امریکی صدر کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لانے کی بات ایک اہم پیشرفت ہے، جو عالمی سطح پر مسئلے کی سنجیدگی اور اس کے پرامن حل کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
واضح رہے کہ ہفتہ 10 مئی کو بھارت کی جانب سے کی گئی جارحیت پر پاکستان نے چند گھنٹوں میں بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائی کی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی عمل میں آئی۔ ذرائع کے مطابق، اس جنگ بندی میں امریکہ نے ثالث کا کردار ادا کیا، تاہم جنگ بندی بھارت کی درخواست پر کی گئی۔
وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اپنی خودمختاری، سلامتی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو وہ پاکستان کے اصولی مؤقف اور قومی مفادات کی بنیاد پر ہوں گے۔






