اہم خبریںتازہ تریندنیا

پاکستان کی سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی سفارتی کوششیں تیز

اسلام آباد: سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر پاکستان نے سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بیک وقت رابطوں اور ملاقاتوں کے ذریعے حالات میں بہتری کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان کسی بھی اختلاف کو بڑھنے سے روکنا اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ اسی سلسلے میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں حالیہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے یمن میں ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد کشیدگی سامنے آئی، جس کے بارے میں سعودی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے اسلحہ لے کر یمن کے ساحلی شہر المُکلّہ پہنچا رہا تھا۔ سعودی اتحاد کے مطابق یہ اسلحہ یمن کے ایک باغی گروہ کی مدد کے لیے تھا۔
منگل کے روز سعودی عرب نے المُکلّہ کی بندرگاہ پر فضائی کارروائی کی، جس کے بعد ریاض نے متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر یمن سے اپنی فوج واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت فوری طور پر بند کرے۔
سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یمن کے مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں، جبکہ یو اے ای پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ یمنی جنوبی عبوری کونسل کو کارروائیوں پر آمادہ کر رہا ہے، جو سعودی قومی سلامتی اور خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کو ریڈ لائن سمجھا جائے گا۔
ادھر ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر اس وقت پاکستان کے شہر رحیم یار خان میں موجود ہیں، جن سے ملاقات کے لیے وزیراعظم شہباز شریف بھی رحیم یار خان پہنچ گئے ہیں۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد یمن کے امن، استحکام اور خطے میں توازن کے لیے سفارتی حل کی حمایت جاری رکھے گا اور دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا رہے گا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button