ایران کا خلائی میدان میں بڑا قدم: روسی راکٹ کے ذریعے 3 مقامی سیٹلائٹس خلا میں روانہ
تہران/ماسکو: ایران نے خلائی ٹیکنالوجی میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے اپنے تین مقامی طور پر تیار کردہ سیٹلائٹس کامیابی سے زمین کے مدار میں پہنچا دیے ہیں۔ یہ لانچ اتوار کے روز روس کے "وستوچنی کاسموڈروم” سے روسی سویوز راکٹ کے ذریعے عمل میں لائی گئی۔
مشن کی تفصیلات
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، خلا میں بھیجے گئے سیٹلائٹس کے نام درج ذیل ہیں:
پایا (Paya): یہ 150 کلوگرام وزن کے ساتھ اب تک کا سب سے جدید اور بھاری ایرانی امیجنگ سیٹلائٹ ہے۔
ظفر-2 (Zafar-2): اسے مقامی یونیورسٹی کے محققین نے تیار کیا ہے۔
کوثر 1.5 (Kowsar 1.5): یہ ایران کے نجی شعبے کی جانب سے تیار کردہ ایک ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ ہے۔
یہ سیٹلائٹس اس وقت زمین سے تقریباً 500 کلومیٹر کی بلندی پر اپنے مدار میں کامیابی سے گردش کر رہے ہیں۔
سیٹلائٹس کی خصوصیات اور مقاصد
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مشن مکمل طور پر شہری اور تحقیقی مقاصد کے لیے ہے۔ ان سیٹلائٹس کو درج ذیل کاموں کے لیے استعمال کیا جائے گا:
پایا سیٹلائٹ: مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس یہ سیٹلائٹ آبی وسائل کی نگرانی، نقشہ سازی اور ماحولیاتی تجزیے کے لیے ہائی کوالٹی تصاویر فراہم کرے گا۔
زرعی و قدرتی وسائل: زرعی منصوبہ بندی اور قدرتی وسائل کے بہتر انتظام میں مدد۔
آفات سے نمٹنا: سیلاب، زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات کے دوران امدادی کارروائیوں میں معاونت۔
ماحولیاتی نگرانی: زمین میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنا۔
ایران اور روس کا تعاون
رپورٹ کے مطابق، حساس آلات کی محفوظ ترسیل کے لیے روسی سویوز راکٹ کا انتخاب اس کی قابلِ اعتماد کارکردگی کی بنا پر کیا گیا۔ ایران گزشتہ دو برسوں میں اب تک 10 سیٹلائٹس خلا میں بھیج چکا ہے، جس میں نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کا بڑھتا ہوا کردار نمایاں ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیوں اور جامعات کی اس شعبے میں شمولیت ملک کی خلائی صنعت کو خود کفالت کی جانب لے جا رہی ہے۔






