پی ٹی آئی یا ن لیگ جو بھی غلط ہو، اخلاقی حدود میں رہ کر ان پر تنقید کریں: سہیل آفریدی
لاہور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ سہیل آفریدی نے جہاں سیاسی جماعتوں پر تہذیب کے دائرے میں رہ کر تنقید کی بات کی، وہی عظمیٰ بخاری نے انہیں لاہور کی سیر چھوڑ کر اپنے صوبے کی فکر کرنے کا مشورہ دے دیا۔
"پی ٹی آئی غلط ہو تو تنقید کریں” – سہیل آفریدی
لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایک نیا موقف اپنایا۔ ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
اخلاقی حدود: انہوں نے کہا کہ جہاں پی ٹی آئی غلط ہو، وہاں اخلاقی حدود میں رہ کر ضرور تنقید ہونی چاہیے۔
مساوی رویہ: ان کا کہنا تھا کہ تنقید کا یہ معیار صرف پی ٹی آئی کے لیے نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں کے لیے بھی ہونا چاہیے۔
حق کا ساتھ: سہیل آفریدی نے عوام سے اپیل کی کہ حکومت پی ٹی آئی کے خلاف جو اقدامات کر رہی ہے، اس پر آواز اٹھائیں اور حق و سچ کا ساتھ دیں۔
"لاہور کی بہت سیر کر لی، اب واپس جائیں” – عظمیٰ بخاری کا ردعمل
صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورہ لاہور اور ان کے بیانات پر کڑی تنقید کی۔
صوبے کی فکر: عظمیٰ بخاری نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "پاکستان کے یورپ (لاہور) کی بہت سیر کر لی، اب خدا کے لیے واپس جائیں اور خیبر پختونخوا کے عوام کی داد رسی کریں جن کے وہ ذمہ دار ہیں۔”
اسٹریٹ موومنٹ پر طنز: انہوں نے پی ٹی آئی کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کل رات تک بنگلہ دیش کی تصویریں لگا کر خوشی منائی جا رہی تھی، لیکن آج دن کی روشنی میں اسٹریٹ موومنٹ کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے جہاں نعروں کا جواب دینے والا بھی کوئی موجود نہیں تھا۔






